کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے، اس دنیا میں جس طرح ہدایت کے مواقع رکھے گئے ہیں، اسی طرح گمراہی کے راستے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی آزاد ہے کہ وہ جس رخ پر چاہے چلے، وہ مواقع کو جس طرح چاہے استعمال کرے، اپنی قوتوں کو جس کام میں چاہے لگائے، مگر یہ سب محض وقتی ہے، نہ کہ مستقل۔ یہاں جو شخص حق کی آواز کو رد کرنا چاہے، اس کو باآسانی ایسے خوبصورت الفاظ مل جاتے ہیں جن کو بول کر وہ اپنے آپ کو جھوٹے یقین میں مبتلا کر لے۔ یہاں دین کی سچی دعوت کو نظرانداز کر کے بھی آدمی ایسے در و دیوار پا لیتا ہے جن کے سائے میں وہ پناہ لے سکے۔
یہاں خدا کی پکار کی طرف سے اپنے کانوں کو بند کر کے بھی ایسی چٹانیں مل جاتی ہیں جو کسی کو یہ تسکین دے سکیں کہ اس نے اپنے لیے ایک مضبوط سہارا دریافت کر لیا۔ مگر جب پردہ ہٹے گا تو یہ چیزیں اتنی بے معنی ثابت ہوں گی جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ جب قیامت کی چنگھاڑ بلند ہوگی اور کائنات کا مالک اپنے جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا، تو آدمی اتنا بے بس ہوگا کہ اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا کہ ان تمام باتوں کو مان لے جن کو ماننے کے لیے وہ پہلے تیار نہ ہوتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر آنے والے دن کی ہولناکی کو جانے تو اس کی چلتی ہوئی زبان بند ہو جائے، جس کے الفاظ کا ذخیرہ آج کسی طرح ختم ہونے والا نظر نہیں آتا۔
اس کے اٹھے ہوئے ہاتھ رک جائیں، جس کو اخلاق اور انسانیت کا ہر وعظ روکنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.