یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، یہاں ہر آدمی اپنا اپنا امتحان دے رہا ہے۔ وہ چاہے تو درست عمل کر کے امتحان میں کامیاب ہو سکتا ہے، اور اگر وہ غافل رہے تو ناکامی کے انجام سے دوچار ہونے کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ناکامی کا انجام اپنے آپ ہر آدمی کی طرف دوڑا چلا آ رہا ہے، خواہ وہ اس کو کتنا ہی زیادہ ناپسند کرتا ہو۔ اس معاملے میں آدمی کی مثال برف بیچنے والے دکاندار کی سی ہے: برف حران پگھلتا رہتا ہے۔
اس لیے برف کے دکاندار کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ برف کے پگھلنے سے پہلے اپنی برف کو قیمت میں تبدیل کر لے۔ اگر اس نے دیر کی تو آخر کار اس کے پاس کچھ نہ ہوگا جس سے وہ اپنی تجارت کر سکے۔ وہ اپنا اصل بھی کھو چکا ہوگا اور اسی کے ساتھ اپنا نفع بھی۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔
انسان عمر گزرنے کے ساتھ تیزی سے ایک سخت انجام کی طرف چلا جا رہا ہے۔ اس انجام کا آنا یقینی ہے، اس سے بچنے کی صورت صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ اس وقت کے آنے سے پہلے اپنی زندگی کا صحیح استعمال تلاش کر لیا جائے۔ برف کا کامیاب تاجر وہ ہے جو برف کے پگھلنے سے پہلے اپنی برف کو بیچ ڈالے۔ اسی طرح کامیاب انسان وہ ہے جو اپنی عمر کے تمام ہونے سے پہلے اپنی عمر کو صحیح کاموں میں استعمال کر لے۔
جو آخرت کا مرحلہ سامنے آنے سے پہلے آخرت کے لیے تیاری کر چکا ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.