یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو کسی نہ کسی دائرے میں اختیار و اقتدار دیا جاتا ہے۔ کسی کے اختیار کا دائرہ بڑا ہے اور کسی کے اختیار کا دائرہ چھوٹا۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہر آدمی اپنے دائرۂ اختیار میں وہی کچھ بن جاتا ہے جو دوسرا شخص اپنے دائرۂ اختیار میں بنا ہوا ہے۔
ظاہر کے اعتبار سے لوگوں میں خواہ کتنا ہی فرق ہو، حقیقت کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ دوسرے کی کاٹ میں لگا ہوا ہے۔ ہر شخص دوسرے کی نفی پر اپنا اثبات کرنا چاہتا ہے۔ ہر شخص اپنی حیثیت کا غلط اندازہ کر کے یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے دوسرے کو اس کے مقام سے ہٹا دیا تو اس کا خالی مقام اسے مل جائے گا۔
وہ بھول جاتا ہے کہ جو چیز اس کا انتظار کر رہی ہے، وہ کسی کا خالی مقام نہیں بلکہ خود اس کی اپنی قبر ہے۔ دوسرے شخص کو قبر میں پہنچانے والا خود اپنی قبر میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ دوسرے کی بربادی کا خواب دیکھنے والا بالآخر اپنے آپ کو خود اپنی بربادی کے کنارے کھڑا ہوا پاتا ہے۔ ہر آدمی جو آج اپنے کو کامیاب سمجھتا ہے، وہ کل اپنے کو ناکام دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔
یہ واقعہ ہر روز ہو رہا ہے، مگر کوئی شخص آج کے بعد آنے والے کل کو نہیں دیکھتا۔ ہر شخص اپنے آج کو جاننے کا ماہر ہے، کسی کو اپنے آنے والے کل کی خبر نہیں۔ اپنے آج کو جاننے والو، اپنے کل کو جانو، کیونکہ آخر کار تم جس چیز سے دوچار ہونے والے ہو، وہ تمہارا کل ہے، نہ کہ تمہارا آج۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.