اس دنیا میں کسی آدمی کو کوئی ذاتی طاقت حاصل نہیں۔ کوئی شخص نہ کسی کو کچھ دیتا اور نہ کوئی شخص کسی سے کچھ چھینتا۔ ہر واقعہ جو اس زمین پر ہوتا ہے، وہ خدا کی اجازت سے ہوتا ہے۔
انسان کی ساری حیثیت یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں امتحان کے لیے ہے، اور یہ امتحان بھی صرف ارادے کی حد تک ہے۔ ارادے کے سوا انسان کے بس میں اور کچھ نہیں۔ بظاہر سب کچھ اسباب کے اعتبار سے ہو رہا ہے، مگر اسباب کی حیثیت ظاہری پردے سے زیادہ نہیں۔ اس دنیا میں کسی واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے اسباب و علل کی اتنی زیادہ کڑیاں درکار ہیں جن کی فراہمی کسی انسان کے بس میں نہیں۔
یہ حقیقتاً خدا ہے جو اپنے فرشتوں کے ذریعے یہ تمام کڑیاں فراہم کرتا ہے۔ جو واقعات ہوتے ہیں، وہ اس لیے آدمی کے سامنے لائے جاتے ہیں کہ اس کی جانچ ہو، تاکہ اس کا خدا یہ دیکھے کہ اس کا بندہ مختلف رویوں میں سے کس رویے کا اپنے لیے انتخاب کرتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک صورتحال میں ڈال کر دیکھا جاتا ہے کہ آدمی نے اپنی زبان حق کے لیے کھولی یا ناحق کے لیے۔ کبھی ایک واقعے کے درمیان یہ دیکھنا مقصود ہوتا ہے کہ آدمی انصاف کا رویہ اختیار کرتا ہے یا بے انصافی کا۔
کبھی ایک واقعے کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ آدمی اپنے عہد پر قائم رہتا ہے یا عہد سے پھر جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ واقعات کا اہتمام خدا کی طرف سے ہوتا ہے، انسان تو صرف اچھا یا برا کریڈٹ لے رہا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.