آج کی دنیا میں آدمی کھاتا پیتا ہے، گھر بناتا ہے، عہدے اور ترقیاں حاصل کرتا ہے۔ وہ جس بات کو چاہتا ہے اسے مانتا ہے، اور جس بات کو چاہتا ہے اسے رد کر دیتا ہے۔ وہ آزاد ہے کہ جو چاہے بولے، وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے، اور جس رخ پر چاہے اپنی زندگی کا سفر شروع کر دے۔
یہ صورتحال آدمی کو دھوکے میں ڈالے ہوئے ہے۔ وہ اپنی موجودہ حیثیت کو مستقل حیثیت سمجھ بیٹھا ہے، حالانکہ اس کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ حالتِ امتحان میں ہے، اور یہاں جو کچھ اسے ملا ہوا ہے وہ صرف وقتی طور پر ملا ہوا ہے۔ بہت جلد وہ دن آنے والا ہے جب یہ تمام حیثیتیں اور سامان اس سے چھن جائے گا، حتیٰ کہ لباس بھی اتار لیا جائے گا، جو آدمی کے اثاثے کی آخری چیز ہوتا ہے۔ وہ اچانک اپنے آپ کو اس حال میں پائے گا کہ وہ ایک بے زور مجرم کی طرح مالکِ کائنات کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔
اُس دن ساری اونچ نیچ مٹ جائے گی، خوف و دہشت سے لوگوں کی زبانیں بند ہو چکی ہوں گی۔ آدمی کے اپنے وجود کے سوا ہر چیز اس کا ساتھ چھوڑ دے گی۔ کسی کے لیے یہ موقع نہ ہوگا کہ بے انصافی کر کے بھی کامیاب ہو، اور حق کو نظرانداز کر کے بھی حق کا ٹھیکے دار بنا رہے۔ اُس آنے والے دن کو جو شخص آج دیکھ لے وہی کامیاب ہے۔
جو شخص اسے کل دیکھے گا، اس کے لیے اس کے سوا کوئی انجام نہیں کہ وہ ہمیشہ کے لیے رسوا ہو کر آگ کا عذاب سہتا رہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.