موجودہ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو آزاد سمجھ رہا ہے، وہ نڈر ہو کر جو چاہے بولتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ اگر کسی کو کچھ مال ہاتھ آ گیا تو وہ سمجھتا ہے کہ میرا مستقبل محفوظ ہے۔ کسی کو کوئی اقتدار حاصل ہے تو وہ اپنے اقتدار کو اس طرح استعمال کرتا ہے جیسے اس کا اقتدار کبھی چھننے والا نہیں۔ ہر آدمی پراعتماد چہرہ لیے ہوئے ہے، ہر آدمی ہنستے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے، یہاں تک کہ اچانک موت کا بگل بج جاتا ہے۔
خدا کے فرشتے آتے ہیں اور اس کو موجودہ دنیا سے نکال کر ایک مجبور انسان کی طرح اگلی دنیا میں پہنچا دیتے ہیں۔ یہی ہر آدمی کا معاملہ ہے۔ جب یہ بھیانک لمحہ آتا ہے تو آدمی اپنے اندازے کے بالکل خلاف صورتحال کو دیکھ کر دہشت زدہ ہو جاتا ہے۔ اچانک اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ محض دھوکا تھا جس کو اس نے اپنی غفلت سے سب سے بڑی حقیقت سمجھ لیا تھا۔
وہ کہہ اٹھتا ہے کہ میں نے اپنے کو آزاد سمجھا تھا مگر میں تو بالکل بے اختیار نکلا۔ میں اپنے کو مال و جائیداد والا پا رہا تھا مگر میں تو بالکل خالی ہاتھ تھا۔ میرا خیال تھا کہ میرے پاس طاقت ہے مگر میں تو خدا کی اس دنیا میں مکھی اور مچھر سے بھی زیادہ بے زور تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ میرے ساتھ بہت سے لوگ ہیں مگر یہاں تو کوئی ایک بھی میرا ساتھی اور مددگار نہیں۔
آہ وہ انسان جو اسی بات کو نہیں جانتا جس کو اسے سب سے زیادہ جاننا چاہیے۔ آہ وہ انسان جو اسی بات کو نہیں جانتا جس کو اسے سب سے زیادہ جاننا چاہیے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.