آدمی کا معاملہ جب کسی سے پڑتا ہے تو اس کو وہ بس ایک انسان کا معاملہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فوراً سرکشی اور بے انصافی پر اتر آتا ہے۔ اگر وہ جانے کہ ہر معاملہ خدا کا معاملہ ہے تو وہ کبھی سرکش نہ بنے، وہ کبھی بے انصافی کا رویہ اختیار نہ کرے۔
دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سب خدا کی اجازت اور اس کے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔ اس کے پیچھے خدا کی حکمتِ امتحان کام کر رہی ہے۔ ہر واقعہ جو پیش آتا ہے، وہ اس لیے پیش آتا ہے کہ اس کے ذریعے سے متعلق افراد کو آزمایا جائے۔ حالات میں ڈال کر ہر ایک کو دیکھا جائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا نہیں تھا۔
کسی واقعے کے دوران یہ دیکھنا مقصود ہوتا ہے کہ آدمی اپنے پڑوسی اور اپنے صاحبِ معاملے کو ستاتا ہے یا انصاف کے مطابق اس کا حق ادا کرتا ہے۔ کوئی واقعہ اس لیے پیش آتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ لوگ اپنے کو جس ترازو سے تولتے ہیں، اسی سے دوسرے کو بھی تول رہے ہیں یا اپنے اور دوسرے کے لیے انہوں نے الگ الگ باٹ بنا رکھے ہیں۔ کسی واقعے کا مقصد یہ جانچنا ہوتا ہے کہ کون آدمی مفاد اور مصلحت کو اہمیت دیتا ہے، اور وہ کون ہے جو مفاد اور مصلحت کو نظر انداز کر کے سچائی کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ یہی وہ مواقع ہیں جو آدمی کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔
ان مواقع پر درست رویہ اختیار کر کے ایک شخص جنت کا مستحق بن جاتا ہے، اور دوسرا شخص غلط رویہ اختیار کر کے اپنے کو جہنم میں گرا لیتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.