خدا سب سے بڑی طاقت ہے، اس کی پکڑ بہت بڑی ہے، اور اس کی سزا بھی بہت بڑی۔ ایسے خدا پر ایمان لانا کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ خدا پر ایمان جب کسی کی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو اس کی پوری شخصیت کو ہلا دیتا ہے۔ آدمی شیر کو کھلا ہوا دیکھتا ہے تو اس کی شخصیت ہل جاتی ہے۔
اس سے کہیں زیادہ ہلچل آدمی کے اندر اس وقت پیدا ہوتی ہے جبکہ وہ خدا کو پا لے۔ خدا پر ایمان لانا خدا کو پانے کا اقرار کرنا ہے۔ جب کوئی شخص حقیقی معنوں میں خدا کو پاتا ہے تو خدا اس کے لیے وہ حقیقت بن جاتا ہے جس پر وہ سب سے زیادہ یقین کرے۔ خدا اس کے لیے وہ طاقت بن جاتا ہے جس سے وہ سب سے زیادہ ڈرے۔
ایمان وہ ہے جو آدمی کی زندگی میں بھونچال بن کر داخل ہو، جو قیامت کے زلزلے سے پہلے آدمی کے لیے زلزلہ بن جائے۔ اس قسم کا ایمان جب کسی کو ملتا ہے تو اس کے پورے وجود پر خدا کا ڈر چھا جاتا ہے۔ اس کے لیے ہر معاملہ خدا کا معاملہ بن جاتا ہے۔ کسی چھوٹے کو بے عزت کرنے سے وہ اس طرح کانپتا ہے گویا وہ مالکِ کائنات کے سفیر کو بے عزت کر رہا ہے۔
کسی بڑے کی خوشامد کرتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ خدا کی غیرت کو چیلنج کر رہا ہے۔ حق واضح ہونے کے بعد اس کو نظرانداز کرنا اس کے نزدیک ایسا بن جاتا ہے جیسے کوئی شخص جنت اور جہنم کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھے، پھر بھی جنت کے باغوں کو چھوڑ کر جہنم کی آگ میں کود پڑے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.