اس کائنات کا ایک خدا ہے، اسی نے تمام چیزوں کو بنایا ہے۔ وہ موت کے بعد تمام انسانوں کو جمع کر کے ان سے حساب لے گا، اور پھر ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یا تو ابدی جنت میں داخل کرے گا یا ابدی جہنم میں۔ یہ انجام ہر ایک کے سامنے آنے والا ہے، خواہ وہ کمزور ہو یا طاقتور۔ یہ سنگین حقیقت کسی کے دل میں اتر جائے تو اس کی زندگی کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے۔
وہ ان تمام چیزوں کے بارے میں بے حد حساس ہو جاتا ہے جو آدمی کو جہنم کی آگ میں پہنچانے والی ہیں، اور ان تمام چیزوں کا بے حد مشتاق ہو جاتا ہے جو آدمی کو جنت کے باغوں کا مستحق بنانے والی ہیں۔ وہ ہر چیز سے زیادہ اللہ سے ڈرنے لگتا ہے، اور ہر چیز سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے لگتا ہے۔ خدا اور آخرت کے بارے میں اس کی بڑھی ہوئی حساسیت اس کو بندوں کے بارے میں بھی انتہائی محتاط اور ذمہ دار بنا دیتی ہے۔ ایک انسان سے برائی کرتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ اپنے آپ کو جہنم کے غار میں گرا رہا ہے۔
بندوں کے ساتھ سرکشی کا سلوک کرتے ہوئے وہ اس طرح ڈرنے لگتا ہے جیسے کہ ہر آدمی اپنے ساتھ جہنم کے فرشتوں کی فوج لیے ہوئے ہے۔ اپنے صاحبِ معاملہ افراد سے بے انصافی کرنا اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اس نے اپنے آپ کو آگ کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔ اب کوئی انسان اس کی نظر میں صرف ایک انسان نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک ایسا وجود ہوتا ہے جس کے پیچھے خود خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ کھڑا ہوا ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.