بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ زندگی میں سب سے زیادہ طاقتور جذبہ خوف کا جذبہ ہے۔ خوف کا جذبہ آدمی کے فکر و عمل کی صلاحیتوں کو جتنا جگاتا ہے، کوئی دوسری چیز اس کو اتنا نہیں جگاتی۔ دنیا کی تمام سرگرمیاں کسی نہ کسی خوف کا نتیجہ ہوتی ہیں: معاشی بدحالی کا خوف، بےعزت ہونے کا خوف، برتر طاقت کا خوف، قوی دشمن کا خوف، یا اور کوئی خوف۔
ہر آدمی کسی دیکھے یا ان دیکھے خوف کے تحت عمل کرتا ہے، خواہ وہ اس کو شعوری طور پر جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ مگر یہ تمام جھوٹے خوف ہیں۔ اصلی خوف جس کے تحت آدمی کو متحرک ہونا چاہیے، وہ صرف ایک خدا کا خوف ہے۔ خدا ہی اس قابل ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اس سے تمام اندیشے وابستہ کیے جائیں۔
وہ تمام سرگرمیاں باطل ہیں جو کسی دوسرے خوف کی بنیاد پر ابھری ہوں۔ اور صرف وہی سرگرمی سچی سرگرمی ہے جو اللہ کے خوف کی بنیاد پر قائم ہو۔ خدا نے تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے، وہی ہر چیز کا مالک ہے۔ اسی کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہیں۔
یہ واقعہ کافی ہے کہ آدمی صرف ایک خدا سے ڈرے۔ مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ اس سے زیادہ سخت بات یہ ہے کہ خدا نے انسان کو صرف پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا ہے۔ وہ ہر شخص کو بالآخر اپنے پاس بلائے گا۔
اس دن وہ ہر ایک سے اس کے قول و عمل کا حساب لے گا، اور ہر ایک کو اس کے کارنامۂ زندگی کے مطابق اچھا یا برا بدلہ دے گا۔ واقعے کا یہ پہلو زندگی کے معاملے کو بے حد سنگین بنا دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کی ماتحتی میں دے دے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو وہ سخت ترین سزا سے کسی طرح بچ نہیں سکتا۔
کرنے کا کام کیا ہے؟ اس سوال کا صرف ایک ہی جواب ہے، اور وہ یہ کہ اپنے آپ کو اور اب دوسرے بندگانِ خدا کو آگ کے عذاب سے بچانے کی کوشش کی جائے۔ خدا کے پیغمبروں نے زندگی کی جو حقیقت بتائی ہے، اس کے مطابق زندگی کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آدمی آخرت میں خدا کی پکڑ سے بچ سکے۔ اس آنے والے دن کی سختیوں سے اپنے آپ کو بچانا، اور دوسرے انسانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کرنا، یہی موجودہ دنیا میں مسلمانوں کا اصل کام ہے۔
اس کے سوا جو مطلوب چیزیں ہیں، وہ سب اسی کام کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہیں۔ وحید الدین، کتاب نار جہنم، صفحہ نمبر 3۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.