آدمی دوسروں کو دکھ پہنچا کر اپنی خوشیوں کا محل تعمیر کرنے میں لگا ہوا ہے۔ وہ اپنے پڑوسیوں کو ستاتا ہے اور دور کے لوگوں میں خوش نام ہونے کی تدبیریں کر رہا ہے۔ وہ اپنے ذاتی معاملات میں بے انصافی کر کے باہر کی دنیا میں انصاف کا علمبردار بنا ہوا ہے۔
وہ اپنے خلاف ایک لفظ سننے کے لیے تیار نہیں، مگر دوسروں کے خلاف سب کچھ کہنے اور کرنے کے لیے وہ اپنے آپ کو خدائی فوجدار سمجھتا ہے۔ اسے اپنی غلطیوں کی خبر نہیں، مگر وہ دوسروں کی غلطیاں جاننے کا ماہر بنا ہوا ہے۔ مگر خدا کا انعام ان لوگوں کو ملتا ہے جو اپنے متعلقین کے حقوق ادا کریں، جو اپنے پڑوسیوں کو اپنے شر سے بچائیں، جو اپنے اہلِ معاملے کے ساتھ انصاف کریں، جو خود پسندی کے بجائے خدا پسندی کو اپنی زندگی کا طریقہ بنائیں۔ جو لوگوں سے حق اور عدل کی بنیاد پر معاملہ کریں، نہ کہ اکڑ اور خودغرضی کی بنیاد پر۔
جو حق کے آگے جھک جائیں، چاہے وہ ان کے خلاف ہو۔ جو اپنی انا کو خدا کے حوالے کر دیں اور خدا کی دنیا میں بے انا بن کر رہنے پر راضی ہو جائیں۔ لوگ جہنمی انگاروں میں کودتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ خوبصورت پھولوں سے کھیل رہے ہیں۔ وہ دوزخ کے راستوں میں دوڑ رہے ہیں اور خوش ہیں کہ بہت جلد وہ جنت کے باغوں میں پہنچنے والے ہیں۔
آہ وہ قافلہ جس کے پاس جھوٹی خوش فہمیوں کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔ آہ وہ لوگ جو خدا کی نظر میں اپنے لیے ایک ایسی دنیا بنانا چاہتے ہیں جس کی خدا نے اجازت نہیں دی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.