← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Umoomi sohbat.
Urdu · 5 min
عمومی صحبت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی صحبت، جو اکثر مسجد میں یا کسی اور مجلس میں آپ کے اصحاب کو حاصل ہوتی تھی، اس کی ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ آپ کی مجلسوں میں اصحابِ رسول کو کس طرح ذہنی تعمیر کی خوراک ملتی رہتی تھی۔ عن أبي ذرٍ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كيف أنتم وأئمتكم من بعدي يستأثرون بهذا الفيء؟ " قلتُ: أما والذي بعثك بالحق، أضع سيفي على عاتقي ثم أضرب به حتى ألقاك.
قال: "أولا أدلك على خير من ذلك؟ تصبر حتى تلقاني. " سنن ابی داؤد، کتاب السنہ، بحوالہ مشکات المصابیح جلد 2، صفحہ 1095۔ ترجمہ: ابوذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس وقت تمہارا حال کیا ہوگا جب میرے بعد والے حکمران آئیں گے؟
وہ فیء، یعنی اموالِ حکومت، کو اپنے لیے خاص کر لیں گے۔ " میں نے کہا کہ اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں تلوار کو اپنے کندھے پر رکھوں گا اور پھر اس سے انہیں ماروں گا، یہاں تک کہ میں آپ سے مل جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو اس سے زیادہ بہتر بات نہ بتاؤں: تم صبر کرو یہاں تک کہ تم مجھ سے مل جاؤ۔ پیغمبرِ اسلام نے اس ارشاد کے ذریعے اپنے اصحاب کو ایک نئی فکری روشنی دی۔
عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جب اپنے حکمرانوں میں بگاڑ دیکھتے ہیں تو وہ اصلاحِ سیاست کے نام پر ان سے متشددانہ ٹکراؤ شروع کر دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ بگاڑ کے زمانے میں حکمرانوں سے ٹکرا کر شہید ہو جانے سے زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ ان کے بگاڑ پر صبر کیا جائے، اور یہ سب اس وقت تک جاری رکھا جائے جبکہ انسان کی موت آ جائے۔ اس حدیث میں صبر سے مراد بے عملی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ایک عظیم ترین عمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمرانوں سے نزاع کا طریقہ چھوڑ کر اپنے عمل کے لیے غیر نزاعی طریقہ ڈھونڈنا اور اس پر کاربند ہو جانا۔
سیاسی نزاع کا طریقہ ہمیشہ بے صبری کی پیداوار ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں نزاع کو avoid کرتے ہوئے عمل کرنا اس وقت ممکن ہوتا ہے جبکہ آدمی اپنے جذبات پر کنٹرول کر کے صابرانہ انداز میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ یہ ایک عظیم حکمت تھی جو پیغمبرِ اسلام نے اپنے اصحاب کو تلقین فرمائی۔ صحابہ اور تابعین اور تبعِ تابعین نے اس حکمت کو سمجھا اور اس پر بھرپور عمل کیا۔
اس کے نتیجے میں دورِ اول میں وہ عظیم اسلامی کام انجام پایا جو مذکورہ صابرانہ سیاست کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، خلفائے راشدین کے بعد فوراً سیاست میں بگاڑ آ گیا۔ مسلم حکمران شریعت کے مقرر راستے سے ہٹ گئے۔ اس زمانے میں اگر اہلِ ایمان اپنے حکمرانوں سے متشددانہ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ پہلی اور دوسری نسل کے تمام بہترین لوگ قتل کر دیے جاتے۔
ابتدائی نسل کے وہ تمام تاریخ ساز لوگ قبروں میں دفن ہو جاتے۔ اسلام کی وہ عظیم تاریخ بننے کی نوبت ہی نہ آتی جو ان لوگوں کے ذریعے بنی۔ مثلاً ابتدائی نسل کے یہی وہ لوگ ہیں جو سیاسی ٹکراؤ کے محاذ کو چھوڑ کر پرامن دعوت کے میدان میں سرگرم ہو گئے اور کروڑوں لوگوں کو اسلام کے دائرے میں داخل کر دیا۔ انہوں نے دورِ پرہیز سے پہلے قرآن کی حفاظت اور اشاعت کا وہ عظیم کام انجام دیا جس کی مثال دوسری آسمانی کتابوں میں نہیں ملتی۔
انہوں نے لاکھوں حدیثوں کو جمع کر کے ان کی چھان بین کی اور صحیح احادیث کے مجموعے تیار کر کے دنیا کو علمِ حدیث کا قیمتی تحفہ دیا۔ انہوں نے فقہ کی تدوین کا وہ عظیم کام انجام دیا جس کی مثال کسی اور دین میں موجود نہیں۔ اسی طرح یہی ابتدائی نسل کے لوگ ہیں جنہوں نے حکومتی بگاڑ سے صرف۔ اسی طرح یہی ابتدائی نسل کے لوگ ہیں جنہوں نے حکومتی بگاڑ سے صرف نظر کر کے تمام اسلامی علوم کو مدون کیا۔
مثلاً سیرت، تاریخ، عقائد و کلام، عربی زبان کے لغات تیار کرنا، نحو اور صرف اور بلاغت اور دوسرے متعلق علوم کی ترتیب و تدوین۔ دورِ اول کے اہلِ ایمان کی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اسلام ہر اعتبار سے ایک محفوظ اور معتبر تاریخی دین بن گیا، جبکہ کسی بھی دوسرے مذہب کو یہ حیثیت حاصل نہیں۔ اور یہ تمام کارنامے صرف اس لیے انجام پائے کہ دورِ اول کے مسلمانوں نے پیغمبرِ اسلام کی دی ہوئی رہنمائی کی بنا پر یہ حکیمانہ طریقہ اختیار کیا کہ انہوں نے سیاسی بگاڑ کے مقابلے میں متشددانہ ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ دیا اور خدمتِ اسلام کے ان بقیہ شعبوں میں پرامن طور پر سرگرم عمل ہو گئے جو غیر نزاعی میدان میں انہیں حاصل تھا۔ کتاب مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 243۔