Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Tausiee sohbat.

Urdu · 5 min

توسیعِ صحبت: قرآن کی سورہ نمبر 26 میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبرِ اسلام کی بابت فرمایا ہے کہ وہ ساجدین کے درمیان تمہارے تقلب کو دیکھ رہا ہے (سورہ شعراء آیت 219)۔ قرآن کی اس آیت میں ساجدین سے مراد مومنین ہیں، اور تقلب کا مطلب ہے چلنا پھرنا۔ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ صبح و شام کی سرگرمیاں ہیں جو آپ اہلِ ایمان کی اصلاح کے لیے اور ان کے اندر دینی شعور کو بیدار کرنے کے لیے انجام دیتے تھے۔ آپ کی یہ کوششیں بھی توسیعِ مفہوم میں صحبتِ رسول کا ایک حصہ تھیں۔

ان کوششوں کے دوران آپ مسلسل اہلِ ایمان کے دینی شعور کو بیدار کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔ توسیعِ صحبت کے معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں اس قسم کی ایک مثال نقل کی جاتی ہے: عن أبي هريرة أن رجلاً شتم أبا بكرٍ والنبي صلى الله عليه وسلم جالسًا فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يعجب ويتبسم فلما أكثر رد عليه بعد قوله فغضب النبي صلى الله عليه وسلم وقام فلحقه أبو بكر فقال یا رسول الله كان يشتمني وأنت جالس فلما رددت عليه بعد قوله غضبت وقمت قال إنه كان معك ملك يرد عنك فلما رددت عليه بعد قوله وقع الشيطان فلم أكن لأقعد مع الشيطان فلم أكن لأقعد مع الشيطان مسند احمد جلد 2 صفحہ 436 ترجمہ: ابوہریرہ بتاتے ہیں کہ ایک شخص نے ابوبکر کے خلاف سب و شتم کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر متعجب ہوتے رہے اور تبسم فرماتے رہے۔ جب اس آدمی نے بہت زیادہ سخت کلامی کی تو ابوبکر نے اس کی بعض باتوں کا جواب دے دیا۔

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے اور وہاں سے اٹھ گئے۔ پھر ابوبکر چل کر ان سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول! وہ آدمی مجھ کو سب و شتم کر رہا تھا اور آپ بیٹھے رہے۔

پھر جب میں نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا تو آپ غصہ ہو گئے اور وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ آپ نے فرمایا کہ پہلے تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہاری طرف سے بول رہا تھا۔ پھر جب تم نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آ گیا۔ تو میں نے شیطان کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کیا۔

یہ اس چیز کی ایک اعلیٰ مثال ہے جس کو ہم نے پیغمبر کے ذریعے ملی ہوئی شعوری بیداری کہا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر دو قسم کی صفات ہوتی ہیں: نفس امارہ اور نفس لوامہ۔ نفس امارہ شیطان کی علامت ہے اور نفس لوامہ فرشتے کی علامت۔ ایک آدمی آپ کو گالی دے اور آپ چپ رہیں تو گالی دینے والے کا نفس لوامہ بیدار ہو کر اندر ہی اندر اس کو ملامت کرتا رہتا ہے۔

یہ گویا آپ کی طرف سے فرشتے کا جواب دینا ہے۔ اس کے برعکس جب آپ ایسا کریں کہ سخت کلامی کے جواب میں آپ بھی سخت کلامی کریں تو دوسرے آدمی کا نفس امارہ متحرک ہو جائے گا۔ یہ آدمی کا شیطان کے زیرِ اثر آ جانا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس تلقین کے ذریعے صحابہ کو ایک عظیم حقیقت بتائی۔

آپ نے صحابہ کے اندر وہ فکری روشنی پیدا کی جو ہر معاملے میں ان کی کامیابی کی ضامن بن جائے، خواہ وہ معاملہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد کے ذریعے اہلِ ایمان کو ایک گہری سوچ عطا کی۔ آپ نے بتایا کہ ہر انسان کے اندر پیشگی طور پر دو مختلف قسم کی شخصیتیں چھپی ہوئی ہیں: ایک تمہاری دشمن شخصیت اور دوسری تمہاری دوست شخصیت۔ یہ تمہارے اپنے اختیار میں ہے کہ تم فریقِ ثانی کو اپنا دوست بناتے ہو یا اپنا دشمن۔

اگر تم نے فریقِ ثانی کے نفس امارہ کو جگا دیا، اگر تم نے فریقِ ثانی کے نفس امارہ کو جگایا تو اس کی دشمن شخصیت تمہارے حصے میں آئے گی۔ اور اگر تم نے اس کے نفس لوامہ کو جگایا تو اس کی دوست شخصیت تمہارے حصے میں آئے گی۔ پیغمبرِ اسلام نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے اس اہم حقیقت کی طرف نشاندہی فرمائی کہ اس دنیا میں کچھ نہ کرنے کا نام بھی کرنا ہے اور کچھ نہ بولنے کا نام بھی بولنا۔ اگر ایک شخص آپ کے خلاف سب و شتم کر رہا ہے اور آپ جواب نہیں دیتے تو اس کا مطلب سادہ طور پر یہ نہیں ہے کہ آپ نے جواب نہیں دیا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے خاموش رہ کر زیادہ طاقتور متکلم کو بولنے کا موقع دیا۔

یعنی خدا کے فرشتے کو۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ آپ جو کام کم مؤثر انداز میں انجام دیتے، اس کو خدا کے فرشتے نے زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے دیا۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 245.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.