← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Zameer behtareen judge hai.
Urdu · 3 min
ضمیر بہترین جج ہے۔ ایک شہر میں ایک مسلمان نے اپنے لیے نیا گھر بنایا۔ گھر سے ملی ہوئی ایک زمین کو انہوں نے حصار بنا کر اپنے گھر میں داخل کر لیا۔ ان کے پڑوس میں ایک ہندو ٹھیکیدار تھا۔
اس ہندو ٹھیکیدار کا دعویٰ تھا کہ یہ زمین اس کی ہے۔ چنانچہ اس نے شہر کے کٹر ہندوؤں سے مل کر انہیں بھڑکایا، یہاں تک کہ ایک دن ہندوؤں کی ایک بھیڑ گھر کے سامنے سڑک پر اکٹھا ہو گئی اور نعرے لگانے لگی۔ مذکورہ مسلمان کے پاس اس وقت 2 بندوقیں تھیں، مگر انہوں نے بندوق نہیں اٹھائی۔ وہ تنہا اور خالی ہاتھ گھر سے نکل کر باہر آئے۔
انہوں نے نعرہ لگانے والی بھیڑ سے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے صرف یہ پوچھا کہ آپ کا لیڈر کون ہے؟ ایک صاحب جن کا نام مسٹر سورن تھا، آگے بڑھے اور کہا، "وہ میں ہوں، بتائیے کہ آپ کو کیا کہنا ہے؟ " مسلمان نے بھیڑ سے کہا کہ آپ لوگ یہاں ٹھہریے، اور مسٹر سورن کو لے کر گھر کے اندر آ گئے۔
ان کو کمرے میں لا کر انہیں کرسی پر بٹھا دیا۔ اس کے بعد مسلمان نے کہا کہ مسٹر سورن، آپ لوگ کس سلسلے میں یہاں آئے؟ مسٹر سورن نے غصے میں کہا کہ آپ نے ایک ہندو بھائی کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے، ہم اسی کے لیے یہاں آئے ہیں۔ مسلمان نے نرمی کے ساتھ کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمین کاغذ پر ہوتی ہے۔
زمین کا فیصلہ کاغذ کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ آپ ایسا کیجیے کہ میرے پاس جو کاغذات ہیں ان کو لے لیجیے اور ٹھیکیدار صاحب کے پاس جو کاغذات ہیں ان کو بھی لے لیجیے، اور پھر نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے گھر چلے جائیے۔ اس معاملے میں میں آپ ہی کو جج بناتا ہوں۔ آپ کاغذات کو دیکھنے کے بعد جو بھی فیصلہ کر دیں، وہ مجھے بلا شرط منظور ہوگا۔
یہ سن کر مسٹر سورن بالکل نارمل ہو گئے۔ وہ غصے کی حالت میں اندر گئے تھے اور ہنستے ہوئے باہر نکلے۔ انہوں نے سڑک پر کھڑی ہوئی بھیڑ سے کہا کہ تم لوگ اپنے گھروں کو واپس جاؤ۔ میاں جی نے خود ہم کو جج بنا دیا ہے، اب ہم دونوں کے کاغذات دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔
مسٹر سورن نے اس کے بعد گھر جا کر دونوں کے کاغذات کو دیکھا اور معاملے کو اچھی طرح سمجھا۔ چند دن کے بعد انہوں نے صد فیصد مسلمان کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔ مذکورہ مسلمان اگر اپنی بندوق کو لے کر بھیڑ کے اوپر گولی چلاتے تو وہ بھیڑ کے نفسِ امارہ یعنی انانیت کو جگا دیتے، اور پھر یقینی طور پر سارا معاملہ مسلمان کے خلاف ہو جاتا۔ مگر جب انہوں نے گن کے بجائے معقولیت کو استعمال کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کا نفسِ لوامہ یعنی ضمیر جاگ اٹھا۔
اور جب ضمیر جاگ اٹھے تو اس کا فیصلہ ہمیشہ انصاف کے حق میں ہوتا ہے۔ ضمیر کبھی ظلم اور بے انصافی کا فیصلہ نہیں کرتا۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 211۔