Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Hatyaar jama karna befayeda.

Urdu · 3 min

ہتھیار جمع کرنا بے فائدہ۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی، وہ ایک کامیاب تاجر ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میرا گھر شہر کے ایک ایسے کنارے پر ہے جہاں سے غیر قوم کی آبادی شروع ہو جاتی ہے۔ میں نے سوچا کہ مجھے اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے۔

میں نے پیسہ خرچ کر کے اپنے گھر کے ہر فرد کے لیے لائسنس بنوایا، اور پھر گھر کے ہر فرد کے نام گن اور ریوالور حاصل کر لیا۔ اب میں اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو محفوظ سمجھتا ہوں۔ اب مجھے دنگے اور فساد کا کوئی ڈر نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ تجارت کا اصول جانتے ہیں، مگر آپ سماجی زندگی کے اصول کو نہیں جانتے۔

سماجی تحفظ کا ذریعہ گن اور ریوالور نہیں ہے۔ سماجی تحفظ کا اصول یہ ہے کہ آپ دوسروں کے لیے بہترین پڑوسی بن کر رہیں۔ آپ دوسروں کو اپنے شر سے بچائیں۔ اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوگا کہ آپ دوسروں کے شر سے محفوظ رہیں گے۔

اگر آپ دوسروں سے نفرت کریں تو دوسروں کی طرف سے بھی آپ کو نفرت ملے گی۔ اور اگر آپ کے دل میں دوسروں کے لیے خیرخواہی ہو تو دوسروں کی طرف سے بھی آپ کو محبت اور خیرخواہی کا تحفہ ملے گا۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کے گھر کے سامنے غیر قوم کی بھیڑ اکٹھا ہو جائے اور آپ اپنی بالکنی پر کھڑے ہو کر اس کے اوپر گولی چلا دیں تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بس اتنے ہی پر معاملہ ختم ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں۔

آپ کو جاننا چاہیے کہ انسانوں کے اوپر گولی چلانا آپ کے لیے قابلِ دست اندازی پولیس جرم، یعنی کاگنیزیبل آفینس، کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ جب بھی ایسا ہوگا تو پولیس فوراً وہاں آ جائے گی، اور آپ ہرگز پولیس سے لڑ نہیں سکتے۔ آپ کو جاننا چاہیے کہ آپ کے پاس گن ہونا اور پولیس کے پاس گن ہونا دونوں میں بے حد بنیادی فرق ہے۔ آپ گن رکھنے کے باوجود کسی کو گولی مارنے کا قانونی حق نہیں رکھتے۔

لیکن پولیس کے پاس گن ہے تو وہ گولی مارنے کا قانونی حق بھی رکھتی ہے۔ غیر قوم کے مقابلے میں بظاہر مقابلہ دو مساوی فریق کے درمیان نظر آتا ہے، مگر جب معاملہ آپ کے اور پولیس کے درمیان کا ہو جائے تو یہ مقابلہ مکمل طور پر غیر مساوی ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں آپ کا گولی چلانا، اپنے نتیجے کے اعتبار سے، آبائل مجھے مار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا اقدام تحفظ نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے صرف ہلاکت کی حیثیت رکھتا ہے۔

کتاب: مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 210۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.