تشدد کا کوئی جواز نہیں۔ تشدد انسانی فطرت کے خلاف ہے، تشدد انسانیت کا قتل ہے۔ تشدد تمام جرموں میں سب سے بڑا جرم ہے۔ اس کے باوجود لوگ کیوں تشدد کرتے ہیں؟
اس کی وجہ بالکل سادہ ہے: ایسے لوگ خود ساختہ طور پر اپنے لیے تشدد کا ایک جواز، یعنی justification، ڈھونڈ لیتے ہیں۔ وہ بطور خود یہ خیال قائم کر لیتے ہیں کہ فلاں وجہ سے ان کے لیے تشدد کرنا جائز ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تشدد کا ہر جواز جھوٹا جواز ہے۔ کوئی فرد یا گروہ جب بھی تشدد کرتا ہے، عین اسی وقت اس کے لیے عدم تشدد یا پرامن طریقہ کار موجود ہوتا ہے۔
ایسی حالت میں تشدد کیوں؟ جب تشدد کے بغیر عمل کرنے کا موقع موجود ہو تو تشدد کیوں کیا جائے؟ حقیقت یہ ہے کہ تشدد مطلق طور پر قابلِ ترک ہے، اور امن مطلق طور پر قابلِ اختیار۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد نہ کرے، وہ ہر صورتحال میں پرامن طریقۂ عمل پر قائم رہے۔
کتاب "مسائل اجتہاد"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 209۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.