عداوت کے مسئلے کا حل: بہت سے لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ فلاں قوم ہماری دشمن ہے، پھر اس مفروضے کے تحت وہ اس قوم کے خلاف متشددانہ لڑائی چھیڑ دیتے ہیں تاکہ اس کی دشمنی کے انجام سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔ مگر یہ مفروضہ بھی غلط ہے، اور اس مفروضے کی بنیاد پر بنایا جانے والا نقشۂ کار بھی غلط ہے۔ دشمنی ہاتھ کی انگلی کی طرح انسانی وجود کا کوئی مستقل حصہ نہیں؛ وہ انسانی وجود کا ایک اوپری حصہ ہے۔ مثبت تدبیر کے ذریعے ہر دشمنی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
دشمنی کی مثال ایسی ہے جیسے گلاس کے اوپر لگی ہوئی مٹی؛ ایسی مٹی کو نہایت آسانی کے ساتھ پانی سے دھو کر صاف کیا جا سکتا ہے۔ گویا کہ گلاس میں مٹی کا لگنا مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے پاس مٹی کو دھونے کے لیے صاف پانی نہ ہو۔ تالی ہمیشہ دو ہاتھ سے بجتی ہے، ایک ہاتھ سے کبھی تالی نہیں بجتی۔ اسی طرح دشمنی ایک دو طرفہ عمل ہے؛ اگر کوئی شخص آپ کا دشمن بنے تو آپ خود اس کے دشمن نہ بنیں، اس کے بعد دشمنی اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔
دشمن کے ساتھ دشمنی نہ کرنا ہی دشمنی کے مسئلے کا سب سے زیادہ کارگر عمل ہے۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 209۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.