خدائی انتباہ، نہ کہ انسانی ظلم۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بعد کے جن حالات سے پیشگی طور پر آگاہ کیا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں مسلم امت دوسری قوموں کی زد میں آ جائے گی۔ چنانچہ فرمایا: يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَىٰ عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَىٰ الْأَكْلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا. ابو داؤد، کتاب الملاحم، مسند احمد۔
یعنی قریب ہے کہ قومیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو پکاریں، جس طرح کھانا کھانے والے ایک دوسرے کو دسترخوان پر پکارتے ہیں۔ قرائن بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ 18ویں صدی عیسوی کے نصفِ آخر میں پیش آیا۔ ابتداً یورپ کی نوآبادیاتی قوموں کے ذریعے یہ واقعہ ہوا، اس کے بعد دوسری قومیں اس میں شریک ہوتی چلی گئیں۔ اس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
ایسا کیوں ہوا؟ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ براہِ راست خدا کی سنت کے تحت پیش آیا۔ خدا کی سنت یہ ہے کہ قوموں کو جگانے کے لیے ان پر تنبیہات نازل کی جاتی ہیں۔ یہ گویا شاک ٹریٹمنٹ ہوتا ہے، تاکہ وہ چونکیں اور اپنی اصلاح کریں۔
چنانچہ فرمایا: فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَى تَضَرَّعُوا وَلَا كِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَلَا كِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ، وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ. الانعام، آیت 43۔ یعنی پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ وہ گڑگڑائے؟ بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے، اور شیطان ان کے عمل کو ان کی نظر میں خوشنما کر کے دکھاتا رہا۔
اس آیت میں "تزئین" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اس کا مطلب ہے ایک برے کام کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرنا، تاکہ اس کی برائی چھپ جائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے ساتھ عین یہی واقعہ پیش آیا۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر عین وہی کام کیا جس کو مذکورہ آیت میں "تزئین" کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ غیر قوموں کی طرف سے جو مسائل پیش آئے، وہ خدائی انتباہ یعنی وارننگ تھے، مگر مسلم رہنماؤں نے ان مسائل کو ظلم اور سازش کی اصطلاحوں میں بیان کرنا شروع کر دیا۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو واقعہ اس لیے تھا کہ مسلمان اپنی کوتاہیوں کو محسوس کریں اور اپنی داخلی اصلاح میں سرگرم ہو جائیں، اس کے بجائے مسلم رہنماؤں کی غلط رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی ساری سوچ غیر اقوام کی طرف متوجہ ہو گئی۔ جس واقعے سے احتسابِ خویش کا ذہن پیدا ہونا چاہیے تھا، اس سے احتسابِ غیر کا ذہن جاگ اٹھا، جو بڑھتے بڑھتے تشدد تک جا پہنچا۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 205۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.