پرامن شہری۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام نے مومن کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ "المؤمن من أمنه الناس على دمائهم وأموالهم" الترمذی، کتاب الایمان؛ النسائی، کتاب الایمان؛ ابن ماجہ، کتاب الفتن، مسند احمد۔ یعنی مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے خون اور اپنے مال کے معاملے میں مامون ہوں۔ کسی سماج میں رہنے کے دو طریقے ہیں: ایک یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان امن کے ساتھ رہے، اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ دوسروں سے لڑائی جھگڑا کرتا رہے۔
اس حدیث کے مطابق ایمانی طریقہ یہ ہے کہ آدمی لوگوں کے درمیان پرامن شہری بن کر رہے، دوسروں کی جان اور مال اور عزت کے لیے وہ مسئلہ نہ بنے، وہ کسی حال میں دوسروں کے خلاف تشدد کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ زندگی کا وہ طریقہ کیا ہے جس میں سماج کے افراد ایک دوسرے کی زیادتیوں سے محفوظ ہوں؟ وہ طریقہ یہ ہے کہ شکایت کے باوجود آدمی اپنی معتدل روش کو برقرار رکھے، دوسروں سے شکایت کو وہ اپنے سینے میں دفن کر دے، وہ اپنے سینے کی آگ کو دوسروں کے اوپر انڈیلنے سے بچے۔ اسی قسم کا سماج وہ سماج ہے جہاں لوگ ایک دوسرے سے مامون رہ کر زندگی گزاریں۔
پرامن سماج معیاری انسانی سماج ہے۔ اس کے برعکس جس سماج میں تشدد ہو وہ حیوانی سماج ہے، نہ کہ انسانی سماج۔ امن پسندی ایک اعلیٰ اخلاق ہے۔ اس کے مقابلے میں تشدد کا مطلب یہ ہے کہ آدمی انسانی اخلاق کے سطح سے گر کر حیوانی اخلاق کے سطح پر آ گیا ہو۔
کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 204۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.