Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Ikhtelaf ki had.

Urdu · 3 min

اختلاف کی حد: پیغمبرِ اسلام نے ایک طرف یہ فرمایا کہ أفضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر، أفضل الجهاد كلمة عدل عند أمير جائر. ابو داؤد کتاب الملاحم، الترمذی کتاب الفتن، النسائی کتاب البیع، ابن ماجہ کتاب الفتن، مسند احمد۔ یعنی ظالم حکمران کے سامنے حق و عدل کی بات کہنا افضل جہاد ہے۔ دوسری طرف حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام نے فرمایا: من رأى من أميره شيئًا فكرهه فليصبر.

البخاری کتاب الاحکام، مسلم کتاب الامارہ، الدارمی کتاب السیر، مسند احمد۔ یعنی جو شخص اپنے حاکم میں ایسی چیز دیکھے جو اس کو پسند نہ ہو تو وہ اس پر صبر کرے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: تسمع وتطيع الأمير وإن ضرب ظهرك وأخذ مالك. صحیح مسلم کتاب الإيمان۔

یعنی تم اپنے حاکم کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑا مارے اور تمہارا مال چھین لے۔ ان حدیثوں میں بظاہر دو قسم کے احکام ہیں: ایک طرف یہ حکم ہے کہ تم اپنے حاکم میں کوئی غلط بات دیکھو تو کھلے طور پر اس کا اعلان کرو۔ دوسری طرف حدیث یہ بتاتی ہے کہ امیر کے اندر تمہیں کوئی غلط بات دکھائی دے تو اس پر صبر کرو۔ اگر وہ تمہارے اوپر ظلم کرے تب بھی تم اس کو برداشت کرو۔

یہ ایک بے حد اہم ہدایت ہے جس سے دو چیزوں کا فرق معلوم ہوتا ہے، اور وہ ہے اعلان اور اقدام کا فرق۔ یہ ایک مطلوب بات ہے کہ آدمی حکمران کے اندر کوئی غلط بات دیکھے تو وہ نصیحت اور خیرخواہی کے انداز میں اس کا اعلان کرے۔ مگر جہاں تک عملی اقدام کا تعلق ہے تو آدمی کو اس سے مکمل طور پر باز رہنا چاہیے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ نصیحت اور ٹکراؤ کی سیاست میں فرق کرے۔

نصیحت کے جائز حق کو استعمال کرتے ہوئے وہ سیاسی ٹکراؤ سے مکمل طور پر بچے۔ فرق کا یہ اصول بے حد اہم ہے۔ سماج میں جب بھی تشدد کا ماحول بنتا ہے، وہ اس وقت بنتا ہے جب کہ لوگ حکمران کے خلاف عملی ٹکراؤ کی مہم شروع کر دیں۔ وہ اصلاح سیاست کے نام پر حکمران کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا منصوبہ بنائیں۔

لیکن اگر اس قسم کی نزاعی سیاست سے بچتے ہوئے صرف قولی نصیحت پر اکتفا کیا جائے تو ہمیشہ ایسا ہوگا کہ سماج میں امن قائم رہے گا، سماج کبھی بھی تشدد کا جنگل نہیں بنے گا۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 201۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.