"پرامن طریقہ کار زیادہ بہتر" ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ معاملات میں پیغمبرِ اسلام کی پالیسی کیا تھی۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ما خُيِّر رسولُ الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين إلا اختار أيسرهما. صحیح البخاری، کتاب الادب۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی معاملے میں دو میں سے ایک طریقے کا انتخاب کرنا ہوتا، تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان تر کا انتخاب کرتے تھے۔
اختیارِ ايسر کے اس اصول کو اگر متشددانہ طریقہ کار اور پرامن طریقہ کار کے اعتبار سے دیکھا جائے، تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبر کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو اس سے نپٹنے کے لیے متشددانہ طریقہ کار کو اختیار نہ کیا جائے، بلکہ پرامن طریقہ کار کو اختیار کیا جائے۔ کیونکہ متشددانہ طریقہ کار یقینی طور پر مشکل ہے، اور پرامن طریقہ کار یقینی طور پر آسان۔ تاہم یہ سادہ طور پر صرف آسان اور مشکل کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملات میں پرامن طریقہ ہمیشہ نتیجہ خیز ہوتا ہے، اور متشددانہ طریقہ یقینی طور پر بے نتیجہ ہے۔ وہ مسئلے کو حل نہیں کرتا، البتہ اس میں کچھ اور اضافہ کر کے اس کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
حدیث میں مشکل طریقے سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے مقصد کا حصول مشکل ہو۔ اس کے مقابلے میں آسان سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے مقصد کا حصول آسان اور یقینی ہو۔ کتاب "مسائلِ اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 202۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.