دشمن سے ٹکراؤ نہیں۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا تتمنّوا لقاءَ العدو، واسألوا الله العافية» صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسير۔ یعنی دشمن سے مدھبھیڑ کی تمنا نہ کرو، تم اللہ سے امن مانگو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اگر تمہارا دشمن بن جائے تو ایسا نہ کرو کہ تم بھی اس کے دشمن بن کر اس سے لڑنا شروع کر دو؛ بلکہ فریقِ ثانی کی دشمنی کے باوجود تم اس کے ساتھ اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔
دشمنی کے حالات کے باوجود تمہارا طریقہ لڑائی سے بچنے کا ہونا چاہیے، نہ کہ اپنے آپ کو لڑائی میں پھنسا لینے کا۔ اللہ سے امن مانگو کا مطلب یہ ہے کہ تم ٹکراؤ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرو، اور اپنی امن پسندانہ کوششوں کے ساتھ خدا کو بھی دعاؤں کے ذریعے اس میں شامل کرو۔ تمہاری دعا یہ نہیں ہونی چاہیے کہ خدایا دشمن کو ہلاک کر دے، بلکہ یہ ہونی چاہیے کہ خدایا مجھے توفیق دے کہ میں لوگوں کی دشمنی کے باوجود تشدد اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کروں، بلکہ امن کے راستے پر اپنی زندگی کا سفر طے کرتا رہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ فطرت کے نقشے کے مطابق اس دنیا میں امن کی حیثیت عموم یعنی رول کی ہے، اور تشدد کی حیثیت صرف ایک استثنا یعنی ایکسیپشن کی۔
مزید اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر بظاہر کوئی شخص یا گروہ آپ کا دشمن ہو تو اس سے نپٹنے کی صرف یہی ایک شکل نہیں ہے کہ اس سے مدھبھیڑ کی جائے؛ زیادہ بہتر اور مؤثر شکل یہ ہے کہ امن کی تدبیر سے دشمن کے مسئلے کا حل نکالا جائے۔ امن کی طاقت تشدد کی طاقت کے مقابلے میں زیادہ کارگر بھی ہے اور زیادہ مفید بھی۔ کتاب: مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 200۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.