Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Khamoshi me najaat.

Urdu · 4 min

خاموشی میں نجات: حدیثوں میں مختلف انداز سے خاموشی کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام نے فرمایا: «من صمت نجا» الترمذی، کتاب القیامہ، الدارمی، کتاب الرقاق، مسند احمد۔ یعنی جو شخص چپ رہا اس نے نجات پائی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی بولنا چھوڑ دے، وہ بالکل خاموش رہے۔

اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ آدمی خاموش رہ کر سوچے، وہ پہلے خاموش رہ کر معاملے کو سمجھے، اس کے بعد وہ بولے۔ یہ بلاشبہ ایک بہترین طریقہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ اپنی تربیت کر کے یہ عادت ڈالے کہ وہ بولنے سے زیادہ خاموش رہے۔ وہ بولے تو اس وقت بولے جب کہ وہ سوچنے کا کام کر چکا ہو۔

یہ تربیت اس طرح کی جا سکتی ہے کہ روزانہ کے معمول کی بات چیت میں وہ بالقصد اپنے آپ کو اس کا عادی بنائے۔ اگر آدمی اپنی روزمرہ کی معمولی بات چیت میں یہ عادت ڈال لے تو اپنی اس عادت کی بنا پر وہ اس وقت بھی ایسا ہی کرے گا جب کہ خلافِ معمول کوئی بات پیش آ گئی ہو۔ عام طور پر لوگ یہ کرتے ہیں کہ جب ان کے سامنے کوئی بات آتی ہے تو فوری طور پر اس کا جو جواب ان کے ذہن میں آتا ہے اس کو اپنی زبان سے بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ طریقہ درست نہیں۔

صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے سوچنے کا عمل کیا جائے اور پھر اس کے بعد بولنا شروع کیا جائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ اس انجام سے بچ جائیں گے کہ وہ اپنے بولے ہوئے الفاظ پر پچھتائیں۔ وہ اپنے کہے ہوئے بول کو لوٹانا چاہیں، حالانکہ کسی کا کہا ہوا بول دوبارہ اس کی طرف لوٹنے والا نہیں۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی خلافِ مزاج بات سامنے آتی ہے تو آدمی بھڑک کر ناپسندیدہ انداز میں کلام کرنے لگتا ہے۔

اس سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ روزمرہ کی معمولی بات چیت میں آدمی اس کی عادت ڈالے کہ وہ پہلے سوچے اور پھر بولے۔ جب ایسا ہوگا کہ معمول کی بات جب ایسا ہوگا کہ معمول کی بات چیت میں وہ بولنے سے پہلے سوچنے کا عادی ہو جائے گا تو وہ اپنی اس عادت کی بنا پر خلافِ معمول بات چیت میں بھی اسی طریقے پر کاربند رہے گا۔ عام بات چیت میں اپنے آپ پر کنٹرول رکھ کر بولنے کی عادت اس کو اس قابل بنا دے گی کہ وہ ہنگامی مواقع پر بھی اپنے آپ پر کنٹرول رکھ کر بولے۔ وہ ذہنی ڈسپلن کے ساتھ بات چیت کرے۔

دنیا کے اکثر فتنے الفاظ کے فتنے ہیں۔ کچھ الفاظ نفرت اور تشدد کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں، اور کچھ دوسرے الفاظ امن اور انسانیت کا ماحول قائم کرتے ہیں۔ اگر آدمی صرف یہ کرے کہ وہ بولنے سے پہلے سوچے اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر بولے تو بیشتر فتنے پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے۔ اپنے آپ کو قابو میں رکھ کر کلام کرنا ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔

یہ صفت ان لوگوں میں ہوتی ہے جو اپنے آپ پر نظرِ ثانی کرتے رہیں، جو اپنے قول و عمل کا حساب لیتے رہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ جب وہ کوئی بات سنے تو وہ فوراً اس کا جواب نہ دے۔ وہ فوراً اپنا ردِعمل پیش نہ کرے۔ وہ ایک لمحے کے لیے ٹھہر کر سوچے کہ کہنے والے نے کیا بات کہی ہے اور میری طرف سے اس کا بہتر جواب کیا ہو سکتا ہے۔

بات کو سن کر ایک لمحے کے لیے ٹھہرنا اس بات کی یقینی ضمانت ہے کہ وہ سنی ہوئی بات کا درست جواب دے گا۔ وہ پتھر کا جواب پتھر سے دینے کے بجائے پتھر کا جواب پھول سے دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔ کتاب مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 198۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.