سماجی امن کا فارمولا سماجی امن کا فارمولا کیا ہے، اور کسی سماج میں معتدل حالات کو کس طرح برقرار رکھا جا سکتا ہے؟ اس کے بارے میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن الفتنة نائمةٌ لعن الله من أيقظها حدیث۔ یعنی فتنہ سویا ہوا ہے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو سوئے ہوئے فتنے کو جگائے۔ یہ سماجی امن کا ایک فارمولا ہے، یہ سماجی امن کا ایک فطری فارمولا ہے۔
اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر انا، یعنی ego، کا جذبہ موجود ہے، اور انا کا جذبہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو چھیڑا جائے تو وہ بہت جلد بھڑک اٹھے گا اور فساد برپا کرے گا۔ مگر فطرت نے اس جذبے کو ہر آدمی کے سینے میں سلا دیا ہے۔ وہ ہر انسان کے اندر موجود ہے، مگر تخلیقی نظام کے تحت وہ خوابیدہ حالت میں ہے۔ ایسی حالت میں کسی سماج کو پرامن سماج بنانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کے سینے میں سوئی ہوئی انانیت کو سویا رہنے دیا جائے۔
سماجی امن کو وہی لوگ درہم برہم کرتے ہیں جن کی انانیت کو بھڑکا دیا گیا ہو۔ اگر انانیت کو بھڑکانے سے بچا جائے تو سماج کا امن بھی تباہ نہ ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ سماجی امن کا قیام خود آپ کے اپنے بس میں ہے، نہ کہ دوسروں کے بس میں۔ آپ اپنے مثبت رویے سے دوسروں کی انا کو نہ چھیڑیے، اور پھر یقینی طور پر آپ ان کے شر سے محفوظ رہیں گے۔
کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 197۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.