Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Taqatwar kaun.

Urdu · 2 min

طاقتور کون؟ ایک حدیث کے مطابق پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ليس الشديد بالسرعة، إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب." البخاری، کتاب الادب؛ مسلم، کتاب البر؛ معطا، کتاب الجامع؛ مسند احمد۔ یعنی طاقتور وہ نہیں ہے جو کشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے؛ طاقتور صرف وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔ غصے کے وقت غصے کو روکنا سیلف کنٹرول کی علامت ہے، اور سیلف کنٹرول بلاشبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔

ایسے موقع پر سیلف کنٹرول آدمی کو غلط کارروائیوں سے بچاتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر سیلف کنٹرول کی طاقت نہ ہو، وہ غصے کے وقت بپھر اٹھے گا، یہاں تک کہ وہ متشددانہ کارروائی کرنے لگے گا۔ غصے کو قابو میں رکھنا امن پسند انسان کا طریقہ ہے، اور غصے کے وقت بے قابو ہو جانا تشدد پسند انسان کا طریقہ۔ ایک آدمی کی لڑائی دوسرے آدمی سے ہو اور وہ اس کو لڑائی میں پچھاڑ دے، تو یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ دوسرے آدمی کے مقابلے میں پہلا آدمی جسمانی اعتبار سے زیادہ طاقتور تھا۔

مگر جسمانی طاقت ایک محدود طاقت ہے؛ اس کے مقابلے میں جس شخص کا یہ حال ہو کہ اس کے اندر غصہ بھڑکے، مگر وہ اپنے غصے پر کنٹرول کر لے اور غصہ دلانے والے کے ساتھ معتدل انداز میں معاملہ کرے، ایسا آدمی زیادہ بڑی طاقت کا مالک ہے۔ اس کی یہ روش اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عقل کی طاقت رکھتا ہے، اور عقل کی طاقت بلاشبہ جسم کی طاقت سے بہت زیادہ بڑی ہے۔ ایسا آدمی اپنی دانشمندانہ منصوبے کے ذریعے ہر جنگ کو جیت سکتا ہے، بغیر اس کے کہ اس نے ایک انسان کا بھی خون بہایا ہو۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 196۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.