اللہ کا نام، سلامتی۔ قرآن میں اللہ کے مختلف نام یا صفات بتائے گئے ہیں، ان میں سے ایک "السلام" ہے، یعنی سلامتی۔ گویا خدا خود سلامتی کا مظہر ہے، خدا خود سلامتی کا پیکر ہے۔ خدا کو امن و سلامتی اتنا زیادہ پسند ہے کہ اس نے اپنا ایک نام "السلام" رکھا۔
اس آیت کی تفسیر میں الخطابی نے لکھا ہے کہ "معناه الذي سلم الخلق من ظلمه" "الجامع لأحكام القرآن للقرطبي"، الجزء 18، صفحہ 46۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہستی جس کے ظلم سے لوگ محفوظ رہیں، لوگوں کو جس سے سلامتی کا تجربہ ہو، نہ کہ تشدد کا۔ خدا کی حیثیت اعلیٰ ترین معیار کی ہے۔ جب خدا کا برتاؤ انسانوں سے امن اور سلامتی پر مبنی ہو تو انسانوں کو بھی دوسرے انسانوں کے ساتھ اسی برتاؤ کا معاملہ کرنا چاہیے۔
ہر انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ امن و سلامتی کا برتاؤ کرنا چاہیے، نہ کہ اس کے خلاف سختی اور تشدد کا۔ کتاب "مسائل اجتہاد"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 196۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.