ہر حال میں امن۔ پیغمبرِ اسلام انتہائی حد تک ایک امن پسند آدمی تھے؛ آپ کے مخالفین نے بار بار آپ کو لڑائی میں الجھانا چاہا، مگر ہر بار آپ اعراض کر کے لڑائی سے بچتے رہے۔ تاہم چند بار ایک طرفہ جارحیت کی بنا پر آپ کو وقتی طور پر دفاعی جنگ کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ انہی چند دفاعی جنگوں میں سے ایک بدر کا غزوہ ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ عین اس وقت جب کہ دونوں طرف کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی تھیں، پیغمبرِ اسلام کے پاس خدا کا فرشتہ آیا۔ اس نے کہا کہ اے محمد، اللہ نے آپ کو سلام یعنی سلامتی کا پیغام بھیجا ہے۔ یہ سن کر پیغمبرِ اسلام نے فرمایا: هو السلام ومنه السلام وإليه السلام. البدایة والنهاية الجزء الثالث صفحة 267 یعنی اللہ سلامتی ہے، اور اس سے سلامتی ہے، اور اسی کی طرف سلامتی ہے۔
اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ عین لڑائی کے وقت بھی پیغمبرِ اسلام ایک امن پسند انسان بنے ہوئے تھے۔ اس ہنگامی وقت میں بھی ایسا نہ تھا کہ آپ کا ذہن نفرت اور تشدد سے بھر جائے۔ بلکہ اس وقت بھی آپ امن اور سلامتی کی اصطلاحوں میں سوچتے تھے۔ اس وقت بھی آپ کا دل اس آرزو سے تڑپ رہا تھا کہ اللہ کی مدد سے وہ دنیا میں امن اور سلامتی کا ماحول قائم کر سکے۔
سچا انسان وہ ہے جو جنگ کے وقت بھی امن کی بات سوچے، جو لڑائی کے ہنگاموں میں بھی سلامتی کا جذبہ اپنے دل میں لیے ہوئے ہو۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ مثبت سوچ یعنی پازیٹو تھنکنگ کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، جنگ تمام منفی واقعات میں سب سے بڑا منفی واقعہ ہے۔
پیغمبر عین اس کے کنارے کھڑا ہوا ہے، مگر اس کی زبان سے خون اور تشدد کے بجائے امن اور سلامتی کے الفاظ نکل رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے۔ اعلیٰ انسان وہ ہے جو تشدد کے درمیان بھی امن کی بات سوچے، جو جنگ کے حالات میں بھی صلح کا منصوبہ بنائے۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 195.
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.