Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Jung sirf difaa ke liye.

Urdu · 2 min

جنگ صرف دفاع کے لیے نہیں۔ قرآن کی سورہ نمبر 22 میں ارشاد ہوا ہے کہ «إِذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا» الحج 39۔ یعنی ان لوگوں کو جنگ کی اجازت دی گئی جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔ قرآن کی یہ آیت صرف ایک آیت نہیں، وہ ایک بین الاقوامی قانون کا بیان ہے۔

اس میں یہ بات طے کر دی گئی ہے کہ جائز جنگ صرف وہ ہے جو واضح جارحیت کے مقابلے میں دفاع کے طور پر لڑی جائے۔ جنگ کی ہر دوسری قسم ظلم کی حیثیت رکھتی ہے، اور ظالموں کے لیے خدا کی اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔ اس آیت کے مطابق دفاعی جنگ کے سوا کسی اور جنگ کے حق میں کوئی وجہ جواز نہیں۔ قرآن کے مطابق دفاعی جنگ بھی صرف اعلان کے ساتھ لڑی جا سکتی ہے، بلا اعلان نہیں۔

مزید یہ کہ دفاعی جنگ بھی صرف ایک قائم شدہ حکومت لڑ سکتی ہے؛ غیر حکومتی افراد کو کسی بھی عذر کی بنا پر لڑائی چھیڑنے کی اجازت نہیں۔ ان تعلیمات کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کے مقرر کیے ہوئے قانونِ جنگ کے مطابق مجبورانہ نوعیت کی دفاعی جنگ کے سوا ہر جنگ ناجائز ہے، مثلاً گوریلا وار، پراکسی وار، بلا اعلان وار، اور جارحانہ وار؛ یہ سب کے سب بلاشبہ اسلام میں ناجائز ہیں۔ جنگ ایک حیوانی فعل ہے، جنگ کوئی انسانی فعل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے ابدی قانون کے مطابق امن ایک عموم رول ہے، اور جنگ صرف ایک استثنا، یعنی exception۔

امن ہر حال میں ایک قابلِ اختیار چیز ہے، جبکہ جنگ صرف شدید ضرورت کے وقت اپنے بچاؤ کے لیے اختیار کی جاتی ہے، وہ بھی اس وقت جب کہ ٹکراؤ سے اعراض کی تمام پرامن تدبیریں ناکام ہو گئی ہوں۔ کتاب «مسائل اجتہاد» مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 182۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.