Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Nizaa nahi.

Urdu · 3 min

نظا نہیں۔ قرآن کی سورہ نمبر 22 میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے: فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُوا إِلَى رَبِّكَ سورہ الحج آیت 67۔ یعنی وہ تم سے امر میں ہرگز نزاع نہ کریں، اور لوگوں کو تم اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ اس آیت میں "نزاع نہ کرنے" کا مطلب یہ ہے کہ تم انہیں نزاع کا موقع نہ دو۔

یعنی جب بھی تمہارے اور فریقِ ثانی کے درمیان کوئی اختلافی بات پیش آئے، تو اس کو پرامن بات چیت کے دائرے میں محدود رکھو۔ ایسا ہرگز نہ ہونے دو کہ اختلاف اپنی ابتدائی حد سے گزر کر عملی نزاع بن جائے، اور متشددانہ مقابلہ آرائی کی نوبت آ جائے۔ موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی بات پر دو فریقوں کے درمیان تناؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ تناؤ بذاتِ خود ایک فطری چیز ہے، وہ ہر حال میں اور ہر مقام پر پیدا ہوگا۔

اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ اس تناؤ یا اس اختلاف کو حد سے آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ اختلاف کا امن کے دائرے میں رہنا، اس کا حد کے اندر رہنا ہے۔ اختلاف کا عملی ٹکراؤ یا تشدد کے دائرے میں پہنچ جانا، اس کا حد سے تجاوز کرنا ہے۔ حد کے اندر کوئی بھی اختلاف برا نہیں، مگر حد کے باہر چلے جانے کے بعد ہر اختلاف برا بن جاتا ہے۔

قرآن کی اس آیت میں بامقصد انسان کا طریقِ عمل بتایا گیا ہے۔ ایک انسان جو ایک سنجیدہ مقصد کے لیے اٹھا ہو، اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اور دوسروں کے درمیان صرف وہی چیز زیرِ بحث آئے جو کہ اس کا اصل مقصد ہے۔ دونوں کے درمیان کسی اور چیز کا زیرِ بحث آنا، بامقصد انسان کے لیے زہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ دونوں کے درمیان عدمِ نزاع کی یہ فضا کیسے قائم ہو؟

جواب یہ ہے کہ یہ فضا صرف اس انسان کے ایک طرفہ صبر کے ذریعے قائم ہو سکتی ہے، جو ایک مثبت مقصد اپنے ساتھ لے کر اٹھتا ہے۔ عملی اعتبار سے اس کے سوا کوئی اور صورت ممکن نہیں۔ بامقصد انسان کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ ایک طرفہ اعراض کے ذریعے اپنے اور فریقِ ثانی کے درمیان معتدل ماحول قائم رکھے، تاکہ اس کا سفر کسی توقف کے بغیر مسلسل جاری رہے۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 181۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.