صبر ترقی کا راز۔ قرآن کی سورہ نمبر 8 میں ارشاد ہوا ہے کہ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ الانفال آیت 46۔ یعنی تم صبر کرو، کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام نے فرمایا: وَاعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَقْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ وَأَنَّ الْفَرْجَ مَعَ الْكَرْبِ وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا مسند احمد، الجزء 1، صفحہ 307۔
یعنی جان لو کہ بے شک ناپسندیدہ چیز پر صبر کرنے میں تمہارے لیے بہت بھلائی ہے۔ اور کامیابی صبر کے ساتھ ہے اور کشادگی مشقت کے ساتھ ہے اور مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی کے سامنے مشکل حالات آئیں یا اس کو کوئی تلخ تجربہ پیش آئے تو وہ گھبرا اٹھتا ہے اور بعض اوقات تشدد پر اتر آتا ہے۔ مگر اس قسم کا ردعمل فطرت سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ فطرت کا قانون ہمیشہ ان لوگوں کا ساتھ دیتا ہے جو حق اور انصاف پر ہوں۔ حق پرست فرد یا گروہ اگر جلد بازی نہ کرے اور صبر سے کام لے تو کامیابی اپنے آپ اس کی طرف چلی آتی ہے۔ بیشتر حالات میں ناکامی ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو جلد بازی سے کام لیں اور قبل از وقت پرجوش اقدام کر بیٹھیں۔ اس کے برعکس جو لوگ صبر کا طریقہ اختیار کریں ان کے لیے ہمیشہ ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو ان کو کامیابی کی منزل تک پہنچا دیں۔
قرآن کے مطابق صبر کا الٹا عجلت ہے سورہ الاحقاف آیت 35۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص صبر کی روش اختیار کرتا ہے تو وہ فطرت کے نقشے کی پیروی کر رہا ہوتا ہے۔ اور جب وہ عجلت کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ فطرت کے نقشے سے ہٹ جاتا ہے۔ اور جو آدمی فطرت کے نقشے سے ہٹ جائے اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔
کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 180۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.