Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Pur amn nazriyyati ishaat.

Urdu · 2 min

پرامن نظریاتی اشاعت: قرآن کی سورہ نمبر 25 میں اہلِ حق کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ «وَجَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا» الفرقان آیت 52۔ یعنی تم ان کے اوپر جہاد کرو، بڑا جہاد، قرآن کے ذریعے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن ایک کتاب ہے، ایک نظریاتی کتاب؛ وہ کوئی تلوار نہیں۔ ایسی حالت میں قرآن کے ذریعے جہاد کا مطلب صرف یہی ہو سکتا ہے کہ قرآن کے افکار کو لوگوں تک پہنچاؤ۔

قرآن کے پیغام کو پرامن انداز میں لوگوں کے درمیان عام کرو۔ قرآن کے نظریات کو مدلل انداز میں بیان کر کے اس کو لوگوں کے لیے قابلِ قبول بناؤ۔ اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جس چیز کو جہاد کہا گیا ہے، وہ پرامن جدوجہد یعنی peaceful struggle ہے؛ اس کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاد کا لفظ عربی زبان میں مبالغہ آمیز کوشش کے لیے بولا جاتا ہے، یعنی بہت زیادہ محنت کرنا، کسی مقصد کے حصول کے لیے اپنی آخری کوشش صرف کر دینا۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ پرتشدد کوشش کے مقابلے میں پرامن کوشش زیادہ عظیم ہے۔ کوئی آدمی جب متشددانہ طریقہ کار اختیار کرے تو کوشش کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے، لیکن جب وہ پرامن طریقہ کار اختیار کرے تو اس کا دائرہ کار لامحدود حد تک بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ متشددانہ طریقہ کار میں صرف تلوار یا گن کارآمد ہے، لیکن پرامن طریقہ کار میں ہر چیز آدمی کے لیے ذریعہ اور وسیلہ بن جاتی ہے، حتیٰ کہ بند کمرے میں استعمال ہونے والا ایک قلم بھی۔ کتاب «مسائل اجتہاد» مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 183۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.