Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Pahla groh Bertrand Russell.

Urdu · 6 min

पहला ग्रोह: बर्ट्रेन रसल। برٹرین رَسَل ایک غیر معمولی ذہین آدمی تھا، اس کو لمبی عمر ملی۔ وہ اپنی نوجوانی کے زمانے سے لے کر بڑھاپے کی عمر تک مسلسل مطالعہ کرتا رہا۔ اس کی سوانح عمری اور اس کی دوسری کتابوں کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی ابتدائی عمر میں اس کو سب سے زیادہ جس چیز سے دلچسپی ہوئی، وہ یقینیت، یعنی certainty تھی۔ وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے علم کا طالب تھا، مگر وہ اس علم کو حاصل کرنا چاہتا تھا جس کے واقع ہونے پر وہ یقین کر سکے۔

اپنے اس مزاج کی بنا پر اس کو سب سے پہلے میتھیمیٹکس سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ اس نے لکھا ہے کہ "اس زمانے میں میرا احساس یہ تھا کہ میں نے اپنے لیے مذہب کا ایک قابلِ اعتماد بدل پا لیا ہے"۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کو نظر آیا کہ میتھیمیٹکس میں منطقی تیقن، یعنی logical certainty، موجود ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ میں نے میتھیمیٹکس کی صورت میں اس علم کو پا لیا ہے جس کو میرا ذہن تلاش کر رہا تھا۔

اس کے مقابلے میں مذہب، برٹرین رَسَل کو توہمات، یعنی superstition، کا مجموعہ نظر آیا۔ چنانچہ اس نے مروجہ مذہب کو رد کر کے میتھیمیٹکس کو اپنے دین کے طور پر اختیار کر لیا۔ مگر بعد کو جب برٹرین رَسَل نے زیادہ تفصیلی مطالعہ کیا تو اس کا یہ یقین متزلزل ہو گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ میرا یہ یقین حقائق کے سرسری مطالعے پر مبنی تھا، حقائق کا زیادہ گہرا مطالعہ اس کی تصدیق نہیں کرتا۔

برٹرین رَسَل کے بعد کے مطالعے کے نتائج کو اس کی کتاب "انسانی علم" یعنی "Human Knowledge" میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کتاب میں برٹرین رَسَل نے قطعی دلائل کے ذریعے دکھایا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسانی مطالعہ کبھی بھی کسی کو یقینی علم تک نہیں پہنچا سکتا۔ ایک طرف انسانی محدودیتیں اور دوسری طرف کائنات کی پراسرار نوعیت، یعنی mysterious nature، فیصلہ کن طور پر یقینی علم کی راہ میں حائل ہیں۔ انسان کا مطالعہ آخر کار جہاں اس کو پہنچاتا ہے، وہ تیقن، یعنی certainty، نہیں ہے بلکہ صرف قرینہ یا احتمال، یعنی probability ہے۔

اس کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ہم حقیقت، یعنی reality، کو براہِ راست دریافت نہیں کر سکتے۔ ہم صرف یہ دریافت کر سکتے ہیں کہ احتمالی طور پر یہاں فلاں حقیقت موجود ہے، اگرچہ وہ براہِ راست ہمارے تجربے میں نہیں آتی۔ برٹرین رَسَل کو اس کے تمام عمر کے مطالعے نے جہاں پہنچایا، وہ ایک ایسا مقام تھا جہاں وہ حقیقی مذہب کے عین قریب پہنچ چکا تھا۔ اگر اسلامی الفاظ استعمال کیے جائیں تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ "لا الہ" کی منزل تک پہنچ چکا تھا، مگر اس کے بعد وہ "الا اللہ" کی منزل طے نہ کر سکا، یہاں تک کہ اس کی موت ہو گئی۔

برٹرین رَسَل کی یہ بات کہ انسانی علم ہم کو صرف قرینہ یا احتمال، یعنی probability، تک پہنچاتا ہے، یہ اس کی ذاتی بات نہیں، یہی موجودہ زمانے کے تمام علمائے سائنس کا موقف ہے۔ یہ اصول اب جدید علم کا ایک ایسا مسلمہ بن چکا ہے جس سے کسی بھی صاحبِ علم کو اختلاف نہیں۔ علمی تحقیقات کا اس حقیقت تک پہنچنا کہ اس دنیا میں، خالص علمی طور پر، ہم صرف قرینہ یا احتمال تک پہنچ سکتے ہیں، بے حد اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم موجودہ علم کے مطابق، سائنس اور مذہب کے درمیان وہ فرق ختم ہو چکا ہے جو قدیم زمانے میں فرض کر لیا گیا تھا۔

اب عقل، یعنی reason، کا موقف بھی عین وہی ہے جو اس سے پہلے عقیدہ، یعنی belief، کا موقف تھا۔ مذہب کا موقف قدیم ترین زمانے سے یہ تھا کہ سچائی یا حقیقت اپنی نوعیت میں ایک غیبی چیز ہے، وہ نہ دکھائی دینے والی دنیا، یعنی unseen world، سے تعلق رکھتی ہے۔ ہمارے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ ہم ظاہری قرائن کی بنیاد پر یہ مستنبط کریں کہ فلاں حقیقت یہاں موجود ہے، اگرچہ وہ دکھائی نہیں دیتی۔ اب سائنس کا موقف بھی عین یہی ہو چکا ہے۔

جدید سائنس کا کہنا ہے کہ ہم چیزوں کی اصل کو نہیں دیکھ سکتے، ہم چیزوں کے صرف ظاہری اثر، یعنی effect، کو دیکھ سکتے ہیں اور ظاہری اثر سے یہ استنباط کر سکتے ہیں کہ فلاں چیز یہاں موجود ہے، اگرچہ بظاہر وہ ہمارے مشاہدہ اور تجربے میں نہیں آتی۔ برٹرین رَسَل اور اس کے جیسے تمام لوگوں کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ قرینہ، یعنی probability، کی بنیاد پر مذہب کی واقعیت کو بھی اسی طرح مانیں جس طرح وہ سائنسی نظریات کی واقعیت کو مانتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو ماننے کے بعد دوسرے کو نہ ماننے کی کوئی وجہ ان کے پاس موجود نہیں۔ ان حضرات کو جاننا چاہیے کہ اب ان کے لیے جن دو حالتوں کے درمیان انتخاب ہے، وہ انکارِ مذہب اور اقرارِ مذہب نہیں ہے، بلکہ وہ اقرارِ مذہب اور انکارِ خویش کے درمیان ہے۔

یہ حضرات اگر مذہب کے انکار پر مصر ہوں تو انہیں خود اپنا انکار بھی کرنا پڑے گا۔ چونکہ ان کے لیے اپنا انکار ممکن نہیں، اس لیے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ مذہب کا انکار کریں۔ کتاب "مسائل اجتہاد"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 155۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.