← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Dusra groh Einstein
Urdu · 10 min
دوسرا گروہ آئن سٹائن۔ دوسرے گروہ کی ایک علامتی شخصیت آئن سٹائن ہے۔ آئن سٹائن نے اپنی پوری زندگی سائنس کے مطالعے میں گزاری، مگر اسی کے ساتھ وہ اپنے اندر روحانی جذبات بھی پاتا تھا۔ چنانچہ اس نے مذہب کا بھی مطالعہ کیا۔
مذہب کے بارے میں بھی اس کا عقیدہ اتنا ہی گہرا تھا جتنا کہ سائنس کے بارے میں اس کا عقیدہ گہرا تھا۔ تاہم اس کے نظریے کے مطابق دونوں دو بالکل الگ الگ موضوعات تھے۔ اس کے الفاظ میں، سائنس کا موضوع یہ جاننا ہے کہ کیا ہے، what is۔ اس کے مقابلے میں مذہب کا موضوع یہ جاننا ہے کہ کیا ہونا چاہیے، what should be۔
گویا مذہب کا تعلق داخلی یقین سے ہے اور سائنس کا تعلق خارجی معلومات سے۔ تاہم یہ تقسیم کافی نہیں۔ اس تقسیم کے باوجود وہ اصل سوال بدستور باقی رہتا ہے جس کی بنا پر سائنس اور مذہب کا مسئلہ پیدا ہوا ہے: خالص علمی اعتبار سے مذکورہ تقسیم کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ اصل سوال مذہب اور سائنس دونوں کو ملانے کا ہے۔
مذہب علم الہی کا نام ہے اور سائنس علم انسانی کا نام۔ یہ ضروری ہے کہ ہم ایسا فارمولا دریافت کریں جو علم الہی اور علم انسانی دونوں کو ایک کر سکے۔ اس کے بغیر انسان کے اندر وہ مطلوب شخصیت پیدا نہیں ہو سکتی جس کو علم نفسیات میں متکامل شخصیت، یعنی انٹیگریٹڈ پرسنالٹی کہا جاتا ہے۔ برٹرینڈ رسل اور اس کے جیسے لوگوں کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے علم کی نوعیت کو نہیں سمجھا، اس لیے وہ صحیح رائے تک نہ پہنچ سکے۔
اس طرح آئن سٹائن اور اس کے جیسے لوگوں کی یہ غلطی ہے کہ انہوں نے مذہب کی نوعیت کو نہیں سمجھا، اور اپنی عدم واقفیت کی بنا پر مذہب کا ایک خود ساختہ تصور قائم کر لیا جو حقیقت سے مطابقت نہ رکھتا تھا۔ اس گروہ کے لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ تمام مروجہ مذاہب کو مذہب کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ دنیا میں ایک درجن بڑے مذاہب، یعنی میجر ریلیجنز ہیں۔ اس کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں دوسرے مذاہب موجود ہیں۔
یہ لوگ ان سب کو ملا کر مذہب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ان میں سے ہر مذہب کی تعلیمات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان میں وہ یکسانیت نہیں پائی جاتی جو سائنس میں موجود ہے۔ اس لیے وہ یہ رائے قائم کر لیتے ہیں کہ مذہب ایک شخصی معاملہ ہے۔
جو شخص جس مذہبی عقیدے کو مانے وہی اس کا مذہب ہے، کسی دوسرے شخص کو اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کا مذہبی تصور خود مذہب کی نفی ہے۔ مذہب کیا ہے؟ مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ایسی مکمل آئیڈیالوجی کا نام ہے جو انسان اور کائنات کی اطمینان بخش توجیح کر سکے۔
جس میں انسان اپنے تمام داخلی اور خارجی سوالات کا جواب پا لے۔ مذہب آدمی کے لیے یقین کا سرچشمہ ہے۔ جو مذہب کلی صداقت نہ ہو وہ انسان کو یقین کا سرمایہ نہیں دے سکتا۔ اور جو مذہب انسان کو یقین نہ دے وہ مذہب بلاشبہ مذہب بھی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ جدید اہل علم مذہب کے مطالعے میں چند غلطیاں کرتے ہیں۔ اس بنا پر وہ مذہب کو سمجھنے میں بھی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ نمبر ایک۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہر موجود مذہب کو مستند مذہب سمجھ لینا اور اس بنیاد پر مذہب کا مطالعہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے توہماتی عقائد جیوٹش، یعنی آسٹرالوجی، اور فلکیات، ایسٹرانومی، سب کو یکجا کر کے اور پھر ان کے مجموعی مطالعے سے ایک علم الافلاک بنانے کی کوشش کی جائے۔
اس معاملے میں سائنٹیفک مطالعے کا طریقہ یہ ہے کہ غیر ثابت شدہ خیالات اور اوہام کو الگ کر دیا جائے اور صرف ثابت شدہ معلومات کی بنیاد پر علم افلاک وضع کیا جائے۔ ٹھیک یہی طریقہ ہمیں مذہب کے مطالعے میں بھی اختیار کرنا چاہیے۔ بطور واقعہ یہ درست ہے کہ آج کی دنیا میں مذہب کے نام سے بہت سے اعتقادی نظام پائے جاتے ہیں۔ لیکن جب ان کا گہرا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خالص علمی اعتبار سے تمام مذاہب کی حیثیت یکساں نہیں۔
ان میں ایسے مذاہب ہیں جن کی کوئی معلوم تاریخ نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے تمام مذاہب ابتدائی طور پر ہی رد ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ جن مذاہب کو تاریخی اعتباریت، یعنی ہسٹوریکل کریڈیبلٹی، حاصل نہ ہو وہ سرے سے اس قابل ہی نہیں کہ ان پر غور کیا جائے۔ اسی طرح کتنے مذاہب ہیں جن کے بارے میں یہ ثابت نہیں کہ ان کا موجودہ متن، یعنی ٹیکسٹ، کسی تبدیلی کے بغیر آج موجود ہے۔
اور جس مذہب کا خود متن مشتبہ ہو اس کی صداقت پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے؟ اس قسم کے مختلف علمی معیار، یعنی سائنٹیفک کرائٹیریا، ہیں جن کا استعمال مذاہب کے مطالعے میں ضروری ہے۔ مگر جب ان معیاروں کو موجودہ مذاہب پر منطبق کیا جاتا ہے تو یہ مذاہب اس علمی جانچ پر پورے نہیں اترتے۔ مذاہب کے پورے مجموعے میں صرف اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو استثنائی طور پر اس خصوصیت کا حامل ہے کہ وہ ہر قسم کی علمی جانچ پر پورا اترتا ہے۔
ایسی حالت میں تمام موجود مذاہب کو یکساں درجہ دے کر ان کا خلاصہ نکالنا ایک غیر علمی فعل ہے۔ اس معاملے میں واحد درست موقف یہ ہے کہ ضروری علمی جانچ پر پورا اترنے والے مذہب کو لے لیا جائے، اور جو مذاہب اس قسم کی علمی جانچ پر پورے نہ اترے انہیں تاریخ کے کتب خانے میں محفوظ کر دیا جائے۔ نمبر دو۔ اسلام کو مذہب کا مستند ایڈیشن، یعنی آتھنٹک ورژن، ماننے کے بعد وہ تمام غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جاتی ہیں جو مختلف مذاہب کو یکساں درجہ دینے کی صورت میں پیدا ہوتی ہیں۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے کائنات کے بارے میں توہماتی عقائد کو الگ کر کے خالص سائنسی حقیقتوں کی بنیاد پر کائنات کا مطالعہ کرنا۔ نمبر تین۔ اسلام کو مذہب کا واحد نمائندہ ماننے کی صورت میں ہم کو ایک ایسا مستند ماخذ مل جاتا ہے جس کے ذریعے مذہبی عقائد کا ایک غیر اختلافی نظام بنایا جا سکے۔ مثلاً مذاہب میں خدا کے بارے میں مختلف اور متضاد نظریات پائے جاتے ہیں۔
اسی طرح پیغمبری اور رسالت کے بارے میں سخت اختلافی نظریات موجود ہیں۔ موت کے بعد زندگی کی نوعیت کیا ہوگی، اس کے بارے میں بھی متضاد نظریات پائے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ دوسرے تمام مذہبی عقائد و افکار کا ہے۔ مگر اسلام کو مذہب کے مستند ماخذ کی صورت میں لینے کے بعد ہمیں ایسے غیر اختلافی نظریات و عقائد مل جاتے ہیں جن پر ہم یقین کر سکیں۔
یقین وہ سب سے بڑی چیز ہے جس کے لیے انسان کو مذہب کی ضرورت ہے۔ اور تمام مذاہب کو یکساں ماننے کی صورت میں اسی اصل مطلوب چیز سے انسان محروم ہو جاتا ہے۔ نمبر چار۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ مذہب اور دنیاوی معاملات کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہو؟
یہ ایک بے حد اہم سوال ہے جس کا جواب مختلف مذاہب میں مختلف انداز سے دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر عیسائیت میں دنیاوی معاملات کو مذہب کا لازمی جز قرار دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ لوگوں کو ناقابل عمل نظر آنے لگا۔ یہاں تک کہ چرچ اور ریاست میں وہ جنگ شروع ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔
اس معاملے میں اسلام نے نہایت اہم ہدایات دی ہیں۔ ان میں سے کچھ کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ الف۔ اسلام میں ایک اہم تعلیم وہ ہے جو حدیث میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأُمُورِ دُنْيَاكُمْ صحیح مسلم۔
یعنی تم لوگ اپنی دنیا کے معاملے میں زیادہ جانتے ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالص دنیاوی نوعیت کے معاملات، مثلاً زراعت، باغبانی، شہری منصوبہ بندی، اقتصادی تنظیم جیسی چیزوں کو علمی ریسرچ کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔ یعنی علمی ریسرچ میں جو چیز انسانیت کے لیے مفید ثابت ہوگی وہی مذہب کے نزدیک بھی درست مانی جائے گی۔ با۔
اسی طرح مذہب اور سیاسی حکمرانی کے معاملے میں قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ سیاسی اقتدار اللہ کا ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے سیاسی اقتدار دیتا ہے۔ سورہ آل عمران آیت 26۔ مزید یہ کہ سیاسی اقتدار امتحان کا ایک پرچہ ہے جس طرح مال اور اولاد وغیرہ امتحان کے پرچے ہیں۔
سورہ یونس آیت 14۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی حکمرانی کے حصول کے لیے لڑائی کرنا اسلام کی تعلیم نہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ فطری تاریخی حالات جس کے حق میں سیاسی اقتدار کا فیصلہ کریں، دوسرے لوگ اس کو قبول کر کے اس کو اپنے امتحان کا موقع دیں۔ نہ کہ لڑائی کر کے اس سے سیاسی امتحان کے خداداد پرچے کو چھیننے کی کوشش کریں۔
کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 157۔