مذہب اور سائنس: انسانیات یعنی Anthropology کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مذہب کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ انسانی تاریخ پرانی ہے۔ جب سے انسان زمین پر موجود ہے، اسی وقت سے مذہب بھی یہاں موجود رہا ہے۔ ابھی تک کوئی ایسا انسانی معاشرہ دریافت نہیں ہوا ہے جس کے اندر مذہب نہ پایا جاتا ہو۔ حتیٰ کہ موجودہ زمانے میں جس کو کچھ پرجوش لوگ لا مذہبیت کا زمانہ سمجھتے ہیں، وہ بھی یقینی طور پر مذہب سے خالی نہیں ہے۔
آج بھی مذہب اتنا ہی زندہ ہے جتنا کہ وہ اس سے پہلے زندہ تھا۔ موجودہ زمانے میں روایتی مذہبی طبقے کے علاوہ اہلِ علم کا جو نیا طبقہ پیدا ہوا، جس کو عام طور پر ماڈرن طبقہ کہا جاتا ہے، وہ وسیع تر تقسیم میں دو گروہوں میں بانٹا جا سکتا ہے: ایک وہ جو اپنے دعوے کے مطابق خدا اور مذہب کا منکر ہے، اس قسم کے افراد کو عام طور پر ملحد یعنی Atheist کہا جاتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو اگرچہ مذہب کے روایتی فارم سے اپنے آپ کو وابستہ نہیں کرتا، تاہم وہ خود اپنی تشریح کے مطابق اپنے آپ کو خدا اور مذہب کا ماننے والا بتاتا ہے۔ پہلے گروہ کی ایک ممتاز شخصیت کے اعتبار سے انگریز فلسفی برٹرینڈ رسل، 1872 تا 1970 کا نام لیا جا سکتا ہے۔
دوسرے گروہ کی ایک مثال مشہور جرمن سائنسدان البرٹ آئن سٹائن، 1879 تا 1955 ہے۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 155۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.