Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Aqida-e-Khuda aur science.

Urdu · 9 min

عقیدۂ خدا اور سائنس: سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین اسی علمِ فطرت کا ظہور ہے جس کی خبر پیشگی طور پر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی تھی: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْأَفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ. حامِمَ السَّجْدَةِ. 53 یعنی ہم لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں اور انفس میں، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ یہ قرآن حق ہے۔ سائنس کی جدید تحقیقات کی روشنی میں کائنات کی جو نئی تصویر بنی ہے، وہ عین وہی ہے جو قرآن میں پیشگی طور پر بتا دی گئی تھی۔

اس اعتبار سے جدید سائنسی دریافتیں گویا کتابِ الٰہی کے اشارات کی تفصیل ہیں، اور اسی کے ساتھ اس کی دلیل بھی۔ یہاں مختصر طور پر ان کا ذکر کیا جاتا ہے: جدید دریافت کے مطابق کائنات کی ابتدا تقریباً 25 بلین سال پہلے ہوئی۔ اس کے بعد مختلف تدریجی انقلابات سے گزرتے ہوئے وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی۔ اس پورے سفر کی روداد اس موضوع کی کتابوں میں پڑھ کر معلوم کی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ اس کو محسوس طور پر کسی سائنسی پلانیٹیرئیم میں دیکھا جا سکتا ہے۔ میں نے یہ پورا منظر واشنگٹن کے نیشنل پلانیٹیرئیم میں دیکھا ہے۔ سائنسی مطالعہ بتاتا ہے کہ 25 بلین سال پہلے خلا میں ایک سپر ایٹم ظاہر ہوا۔ یہ ان تمام ذرات، یعنی پارٹیکلز، کا مجموعہ تھا جو موجودہ کائنات میں پائے جاتے ہیں۔

گویا موجودہ پوری کائنات ایک بہت بڑے فٹبال جیسے گولے کی صورت میں شدت کے ساتھ باہمی طور پر چمٹی ہوئی تھی۔ اس گولے کے تمام ذرات بے حد طاقتور کشش کے ساتھ ایک دوسرے سے داخلی طور پر جڑے ہوئے تھے۔ معلوم طبیعیاتی قانون کے مطابق یہ ناممکن تھا کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو کر بیرونی سمت میں سفر کریں۔ اس وقت اس سپر ایٹم کے اندر نہایت طاقتور دھماکہ ہوا۔

اس دھماکے کے فوراً بعد سپر ایٹم کے ذرات بکھر کر تیزی سے بیرونی سمت میں سفر کرنے لگے۔ اس کے بعد یہ ذرات وسیع خلا میں مختلف مجموعوں کی صورت میں اکٹھا ہو گئے۔ انہی مجموعوں سے خلا میں پائی جانے والی وہ دنیائیں بنی جن کو ستارہ، سیارہ، کہکشاں، شمسی نظام، زمین اور چاند جیسے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ سپر ایٹم کا یہ دھماکہ بیک وقت دو چیزیں ثابت کرتا ہے: ایک یہ کہ یہاں کائنات سے الگ ایک طاقتور ہستی پہلے سے موجود تھی جس نے اپنی ارادی مداخلت کے ذریعے یہ غیر معمولی واقعہ کیا کہ سپر ایٹم کے ذرات داخلی رخ پر سفر کے بجائے بیرونی رخ پر سفر کرنے لگے۔

اس واقعے کا دوسرا عظیم پہلو یہ ہے کہ دھماکہ، یعنی ایکسپلوژن، ہمیشہ تخریبی نتائج کا سبب بنتا ہے۔ پٹاخے سے لے کر بم تک ہر دھماکہ بلا استثنا یہی خاصیت رکھتا ہے۔ مگر سپر ایٹم کا دھماکہ استثنائی طور پر غیر تخریبی تھا۔ اس نے مکمل طور پر صرف صحت مند اور تعمیری نتائج پیدا کیے۔

یہ استثنائی واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات کا خالق لامحدود قدرت کا مالک ہے۔ وہ یہ استثنائی اختیار رکھتا ہے کہ واقعے کے ساتھ نتائج پر مکمل کنٹرول کر سکے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ ہماری کائنات ایک پھیلی ہوئی کائنات، یعنی ایکسپینڈنگ یونیورس ہے۔ وہ غبار کی مانند مسلسل طور پر بیرونی سمت میں پھیل رہی ہے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کائنات کا ایک متعین آغاز ہے۔ اگر کائنات ابدی ہوتی تو وہ اپنی اس پھیلتی ہوئی نوعیت کی بنا پر اب تک ختم ہو چکی ہوتی۔ یہ ثابت ہونا کہ کائنات کا ایک آغاز ہے، یہ بھی ثابت کر دیتا ہے کہ اس کا کوئی آغاز کرنے والا ہے۔ ایک غیر موجود چیز کا آغاز اسی وقت ممکن ہے جبکہ اس سے پہلے کوئی موجود ہو جو اپنے ارادے سے اس کا آغاز کر سکے۔

کائنات میں ایسے بے شمار شواہد ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ کائنات کا منصوبہ ساز اور اس کا ناظم صرف ایک ہے۔ اگر ایک سے زیادہ ناظم ہوتے تو یقینی طور پر کائنات میں فساد برپا ہو جاتا۔ مثال کے طور پر زمین اور سورج کا فاصلہ تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے۔ یہ فاصلہ مسلسل طور پر اپنی حالت پر برقرار رہتا ہے۔

اگر اس فاصلے میں تبدیلی آ جائے تو اس کے مہلک نتائج پیدا ہوں گے۔ مثلاً اگر یہ فاصلہ بڑھ کر 20 کروڑ میل دور ہو جائے تو زمین پر اتنی ٹھنڈ پیدا ہو کہ پانی، نباتات، حیوانات اور انسان سب منجمد ہو جائیں۔ اسی طرح یہ فاصلہ اگر کم ہو کر 5 کروڑ میل ہو جائے تو زمین پر اتنی گرمی پیدا ہو کہ تمام چیزیں، بشمول انسان، جل کر ختم ہو جائیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سورج اور زمین دونوں کا خدا ایک ہے۔

اگر دونوں کے خدا الگ الگ ہوتے تو دونوں الگ الگ اپنی مرضی چلاتے اور پھر یقینی طور پر یہ فاصلہ گھٹتا یا بڑھتا رہتا، اور اس بے قاعدگی کی بنا پر زمین پر انسانی تہذیب کا وجود ناممکن ہو جاتا۔ نامعلوم حد تک وسیع کائنات میں ہمارا زمینی سیارہ ایک نادر استثنا ہے۔ یہاں پانی اور ہوا اور نباتات جیسی عنقریب چیزیں پائی جاتی ہیں جو انسانی زندگی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہیں۔ جبکہ وسیع خلا میں معلوم طور پر کوئی بھی ایسی دنیا موجود نہیں جہاں بقائے حیات کا یہ سامان پایا جاتا ہو۔

یہ استثنا بتاتا ہے کہ یہ دنیا محض بے شعور مادے کے ذریعے نہیں بنی، بلکہ وہ ایک باشعور ہستی کا تخلیقی کرشمہ ہے۔ اگر وہ محض مادی قوانین کے بے شعور تعامل کا نتیجہ ہوتی تو کائنات میں بہت سی ایسی زمینیں ہوتیں، نہ کہ صرف ایک ایسی زمین۔ ہماری دنیا کی ہر چیز انتہائی حد تک بامعنی ہے۔ چیزوں کی معنویت یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ دنیا ایک باشعور تخلیق کا نتیجہ ہے۔

کوئی دوسرا نظریہ اس حکمت اور معنویت کی توجیہ نہیں کر سکتا۔ مثلاً زمین کے حجم، یعنی سائز کو لیجیے۔ زمین کا موجودہ حجم تقریباً 25,000 میل کی گولائی میں ہے۔ یہ حجم بے حد بامعنی ہے۔

چنانچہ یہ حجم اگر 50,000 میل ہوتا تو زمین کی کشش اتنی زیادہ بڑھ جاتی کہ وہ انسانی جسم کی بڑھوتری کو روک دیتی۔ اس کے بعد زمین پر صرف بالشتِ قدم کے انسان دکھائی دیتے۔ اس کے برعکس اگر زمین کا حجم گھٹ کر 12 میل ہوتا تو اس کی قوت کشش اتنی کم ہو جاتی کہ وہ انسانی بڑھوتری کو روک نہ سکتی۔ انسان کا قد تاڑ کی طرح لمبا ہو جاتا۔

اس کے سوا اور بے شمار قسم کے غیر موافق حالات پیدا ہوتے جو انسان کی تمام تمدنی ترقیوں کو ناممکن بنا دیتے۔ مذکورہ پہلوؤں پر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ سائنسی اعتبار سے یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ اس دنیا کا ایک خالق ہے اور وہ یقینی طور پر صرف ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے لیے جو انتخاب ہے وہ باخدا کائنات، یعنی یونیورس وِد گاڈ، اور بے خدا کائنات، یعنی یونیورس وِتَوْٹ گاڈ، میں نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے لیے حقیقی انتخاب باخدا کائنات، یعنی یونیورس وِد گاڈ، اور غیر موجود کائنات، یعنی نو یونیورس ایٹ آل، میں ہے۔

یعنی اگر ہم خدا کے وجود کا انکار کریں تو ہم کو کائنات کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ چونکہ ہم کائنات کے وجود کا انکار نہیں کر سکتے، اس لیے ہم خدا کے وجود کا بھی انکار نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں ہمارے لیے دوسرا کوئی ممکن انتخاب موجود نہیں۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 151۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.