Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Kamyaab izdiwaji zindagi.

Urdu · 2 min

کامیاب ازدواجی زندگی: شوہر اور بیوی کے درمیان بہتر تعلق کی تعلیم دیتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا سورہ النساء آیت 19: یعنی ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو، مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔ یہ بات اپنی حقیقت کے اعتبار سے شوہر اور بیوی دونوں ہی کے لیے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حسنِ معاشرت یا بہتر ازدواجی زندگی کا انحصار اس پر نہیں ہے کہ شوہر کو بالکل اپنی پسند کی بیوی مل جائے یا بیوی کو بالکل اپنی پسند کے مطابق شوہر مل جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ قانونِ فطرت کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔ کامیاب ازدواجی زندگی کا راز پسند کے خلاف زوج، یعنی سپاؤس، کے ساتھ موافقت، یعنی ایڈجسٹمنٹ کرنا ہے۔ ناپسندیدگی میں پسند کا پہلو تلاش کر لینا ہے۔ مشہور سنگر محمد رفیع کا ایک گانا اتنا مقبول ہوا کہ وہ ہر ماں باپ کے دل کی دھڑکن بن گیا۔

خود رفیع صاحب نے جب اس کو گایا تو وہ شدتِ تاثر سے رو پڑے۔ اس گانے میں باپ اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے کچھ اشعار کہتا ہے، جس میں سے ایک شعر یہ ہے: "بابل کی دعائیں لیتی جا، جا تجھ کو سکھی سنسار ملے، میکے کی کبھی نہ یاد آئے، سسرال میں اتنا پیار ملے"۔ یہ بات فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ موجودہ دنیا میں کسی لڑکے یا لڑکی کو اس طرح سکھ اور پیار نہیں مل سکتا۔

ایسی حالت میں مذکورہ قسم کے سکھ اور پیار کو زوجین کے لیے کامیاب زندگی کا معیار بتانا زوجین کے ساتھ ناانصافی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں دونوں کے اندر غیر واقعی ذہن بنتا ہے، اور غیر واقعی ذہن کے ساتھ اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر ممکن نہیں۔ کتاب: مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 150۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.