عُسر کے ساتھ یُسر: موجودہ دنیا کا نظام امید کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں ہر رات کے بعد صبح آتی ہے۔ یہاں ہر عُسر کے ساتھ ہمیشہ یُسر موجود رہتا ہے۔ یہاں ہر مسئلے کے ساتھ مواقع کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ ہر پرابلم کے ساتھ سلیوشن کا موجود ہونا، اس دنیا کا ایک اٹل اصول ہے جس میں کبھی فرق نہیں آتا۔ اگر کبھی ایسا ہو کہ مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر نہ آئے، تو سمجھنا چاہیے کہ ہم جو فارمولا استعمال کر رہے ہیں وہ صورتحال کے مطابق نہیں۔ ایسی حالت میں نئے فارمولے کو استعمال کرنا چاہیے۔ یہی سنتِ رسول ہے: جہاں جنگ کا فارمولا کارآمد نہ ہو رہا ہو، وہاں امن کا فارمولا استعمال کیجیے۔
جہاں براہِ راست مقابلہ مؤثر نہ ہو رہا ہو، وہاں بالواسطہ مقابلے کا طریقہ اختیار کیجیے۔ وغیرہ۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 149۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.