اتحاد کا راز: کسی گروہ کے درمیان اتحاد کیسے قائم ہو؟ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اختلاف کو مٹاؤ تاکہ باہمی اتحاد قائم ہو۔ اس نظریے کے پیچھے جو سوچ ہے وہ یہ ہے کہ جب اختلاف نہ ہوگا تو اپنے آپ اتحاد قائم ہو جائے گا۔ اس سوچ کے مطابق اختلاف ہے تو اتحاد نہیں، اور جہاں اتحاد ہے وہاں اختلاف نہیں۔
یہ سوچ سراسر بے بنیاد ہے۔ اس طرح کے فارمولے کے ذریعے دنیا میں کبھی اتحاد قائم ہونے والا نہیں۔ اختلاف ایک فطری چیز ہے، وہ ہر انسان کی فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ ایسی حالت میں اختلاف کو مٹانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔
اس مقصد کے لیے صحیح اور قابلِ عمل فارمولا یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے، نہ کہ اختلاف کے بغیر متحد ہونے کا۔ کیونکہ موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن ہی نہیں کہ لوگوں کے اختلافات کو اس طرح بلڈوز کر دیا جائے کہ ان کا وجود ہی باقی نہ رہے۔ موجودہ دنیا میں اصلاح کا حقیقی فارمولا صرف وہ ہے جو انسانی فطرت کے مطابق ہو۔ جو فارمولا فطرت سے مطابقت نہ رکھتا ہو وہ قابلِ عمل بھی نہیں، اور جو چیز قابلِ عمل نہیں وہ مفید بھی نہیں۔
کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 149۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.