Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Bachchon ke liye ziyada behtar tohfa.

Urdu · 2 min

بچوں کے لیے زیادہ بہتر تحفہ۔ جو لوگ زیادہ بڑی ترقی حاصل نہ کر سکے، وہ اکثر اس احساس میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ کیا کریں کہ ان کے بچے اس معاشی کمی میں مبتلا نہ ہوں جس میں وہ خود مبتلا ہوئے۔ اس احساس کے تحت وہ ایک ایسی چھلانگ لگا دیتے ہیں جو نتیجے کے اعتبار سے ان کے لیے برعکس ثابت ہوتی ہے۔ یہ بچوں کے بارے میں سوچنے کا صحیح طریقہ نہیں۔

ایسے لوگوں کے لیے صحیح فارمولا یہ ہے کہ اپنے لیے قناعت اور بچوں کے لیے ترقی۔ یعنی حالات کے اعتبار سے آپ جس معاشی کامیابی تک پہنچے ہیں، اس پر قناعت کرتے ہوئے زندگی گزاریے۔ اس معاملے کو بچوں کے اوپر چھوڑ دیجیے کہ وہ وسیع دنیا میں ہاتھ پاؤں ماریں اور اپنی محنت کے ذریعے زیادہ ترقی حاصل کریں۔ آپ بچوں کے لیے صرف ابتدائی زینہ بننے پر قانع ہو جائیے۔

اگلے زینوں پر چڑھنا اور اوپر کی منزل تک پہنچنا، یہ بچوں کے لیے چھوڑ دیجیے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی باپ کی طرف سے اپنے بچوں کے لیے سب سے بہتر عطیہ یہ نہیں ہے کہ وہ ان کے لیے دولت کا ڈھیر چھوڑے۔ اس کے برعکس، زیادہ بہتر عطیہ یہ ہے کہ وہ بچوں کو ایسے حالات دے سکے جو انہیں عمل پر ابھارنے والے ہوں۔ بچوں کے اندر محنت کا جذبہ ہونا سب سے بڑا سرمایہ ہے، نہ کہ باپ کی طرف سے ملی ہوئی دولت۔

محنت کے بغیر جو دولت ملے، وہ کوئی اچھی چیز نہیں۔ اس قسم کی دولت وہ چیز ہے جس کو ایزی منی کہا جاتا ہے، اور یہ ایک ثابت شدہ واقعہ ہے کہ ایزی منی اس کے پانے والے کو فائدہ کم پہنچاتی ہے اور نقصان زیادہ۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 148۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.