اوپر اٹھ کر سوچنا: جب ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان، یا ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان، کسی معاملے میں نزاع پیدا ہو، تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ وقتی مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتے۔ سامنے کا نقصان، عزت کا سوال، اس قسم کی چیزیں آدمی کے ذہن پر اتنا زیادہ غالب آتی ہیں کہ اس کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ نزاع سے الگ ہو کر سوچے اور زیادہ دوررس فیصلہ کر سکے۔ اسی کوتاہ فہمی کا یہ نتیجہ ہے کہ اکثر افراد اور اکثر قومیں کسی نہ کسی مسئلے میں الجھی رہتی ہیں۔ ان کے وقت اور ان کی طاقت کا ایک بڑا حصہ مستقل طور پر مسائل کے حل کے نام پر غیر مفید چیزوں میں ضائع ہوتا رہتا ہے، حالانکہ عقلمندی یہ ہے کہ اپنی پوری قوت کو صرف تعمیر و ترقی کے کام میں لگایا جائے۔
دانشمندی یہ ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہو تو فوری تقاضوں، یعنی کنسیڈریشنز، کو نظرانداز کر کے مستقبل کے اعتبار سے جرات مندانہ فیصلہ کیا جائے۔ مسئلہ پیدا ہونے کے بعد ساری توجہ مسئلے کو ختم کرنے پر لگائی جائے، ہر فوری نقصان کو گوارا کرتے ہوئے مصالحت کر لی جائے۔ ایسے ہر موقع پر آپ کا نشانہ نزاع کو ختم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ خود مسئلے کو ختم کرنا۔ آپ کو چاہیے کہ آپ مستقبل کو دیکھیں، نہ کہ صرف حال کو۔
آپ کی نظر ملنے والے امکان پر ہونی چاہیے، نہ کہ کھوئے جانے والے نقصان پر۔ یہی اس دنیا میں ترقی کا واحد راز ہے۔ کتاب "مسائل اجتہاد"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 147۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.