← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Media culture.
Urdu · 5 min
میڈیا کلچر۔ موجودہ زمانے میں لوگوں کی سوچ میں جو بگاڑ آیا ہے، اس کا غالباً سب سے بڑا سبب وہ جدید ظاہرہ ہے جس کو میڈیا کلچر کہا جا سکتا ہے۔ جدید میڈیا، خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا، سب کا طریقہ یکطرفہ رپورٹنگ یعنی ون سائیڈڈ رپورٹنگ کا ہے۔ چونکہ عام لوگ خبروں کو میڈیا کے ذریعے لیتے ہیں، اس لیے لوگوں کی رائے ہر معاملے میں ناقص ہو گئی ہے۔
وہ یکطرفہ سوچ کے تحت رائے قائم کرتے ہیں۔ اس یکطرفہ رپورٹنگ کا اصول یہ ہے کہ بری خبروں کو لو اور اچھی خبروں کو چھوڑ دو۔ میڈیا کی حیثیت ایک انڈسٹری کی ہے، اور انڈسٹری ہونے کے اعتبار سے اس کے لیے یہی مفید طریقہ ہے کہ وہ کسی ملک یا سماج کی بری خبروں کو نمایاں کرے اور اچھی خبروں کو قابلِ تذکرہ نہ سمجھے۔ میڈیا کی اس روش نے عالمی سطح پر انسانی سوچ کو منفی بنا دیا ہے۔
اس معاملے کی ایک دلچسپ مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ میں اکثر بی بی سی لندن کی نشریات کو سنتا ہوں۔ ایک دن میں بی بی سی لندن کا ہندی پروگرام سن رہا تھا۔ اپنے طریقے کے مطابق انہوں نے آخر میں کچھ خطوط پڑھ کر سنائے۔
ایک خط ماریشس میں مقیم ایک ہندو کا تھا۔ اس نے اپنے خط میں یہ شکایت کی تھی کہ آپ ہندی بولنے والے علاقے کی خبریں نشر کرتے ہیں۔ ماریشس میں بھی بہت سے لوگ ہندی بولتے ہیں، مگر آپ کبھی ماریشس کی کوئی خبر نہیں دیتے۔ بی بی سی لندن کے اناؤنسر نے ہنستے ہوئے اس خط کا جواب دیا۔
اس نے کہا کہ میڈیا تو بری خبروں کی رپورٹنگ کا نام ہے۔ آپ کے ملک میں سب اچھی خبریں ہوتی ہیں، اور اچھی خبر میڈیا کے نزدیک کوئی خبر نہیں۔ Good news is no news. یہ فطرت کے نظام کے خلاف ہے کہ دنیا میں صرف برائی ہی برائی ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ خود نظامِ فطرت کے تحت دنیا میں اگر 1% برائی ہوتی ہے تو عین اسی وقت 99% اچھائی موجود رہتی ہے، خواہ براہِ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر۔ مگر میڈیا کبھی لوگوں کو اس واقعے کی خبر نہیں دیتا کہ ہم جن برائیوں کی رپورٹ کر رہے ہیں وہ پورے سماج کا 1% حصہ ہے، نہ کہ کل حصہ۔ 1947 سے پہلے برصغیر ہند کے اخبارات انگریزوں کے بارے میں صرف ان کے ظلم کی خبریں دیتے تھے۔ انگریزی نظام کے مثبت پہلو اخباروں میں جگہ نہیں پاتے تھے۔
چنانچہ تمام ہندوستانیوں کو انگریزوں سے نفرت ہو گئی۔ 1947 سے پہلے مسلم لیگ سے متاثر اخبارات یہاں کے ہندوؤں کے مثبت پہلوؤں کو نظرانداز کرتے تھے اور ان کے بارے میں صرف منفی باتیں چھاپتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برصغیر ہند کے مسلمانوں کی اکثریت یہاں کے ہندوؤں کے بارے میں بدزن ہو گئی۔ اسی طرح آج کل تمام دنیا کا مسلم میڈیا امریکہ کے مثبت پہلوؤں کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا، وہ اس کے بارے میں صرف بری باتوں کو مسلمانوں تک پہنچاتا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان امریکہ سے متنفر ہو گئے ہیں اور یہ سمجھنے لگے ہیں کہ امریکہ اسلام کا دشمن نمبر 1 ہے۔ میڈیا کی حیثیت ایک انڈسٹری کی ہے۔ میڈیا کے اپنے تجارتی مصالحے کی بنا پر یہ ممکن نہیں کہ وہ یکطرفہ رپورٹنگ کا طریقہ ختم کرے اور دوطرفہ رپورٹنگ کا طریقہ اپنے یہاں رائج کرے۔ اس مسئلے کا عملی حل میڈیا کی شکایت کرنا نہیں ہے، بلکہ خود اپنے ذہن کی اصلاح کرنا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں کے اندر شعوری بیداری پیدا کریں۔ ہم یہ کوشش کریں کہ لوگوں کے اندر تفکیر و تدبر کی صحیح صلاحیت پیدا ہو، تاکہ وہ میڈیا کی ناقص رپورٹنگ سے متاثر نہ ہوں، بلکہ خود تجزیہ کر کے معاملات کے بارے میں درست رائے قائم کریں۔ اس تجزیے کا طریقہ یہ ہے کہ مثلاً جب آپ مسلم اخباروں میں یا مسلم رہنماؤں کی تقریروں میں یہ سنیں کہ امریکہ اسلام کا دشمن ہے تو آپ اس کا تجزیہ کریں۔ آپ یہ سوچیں کہ امریکہ جب ایک دشمن ملک ہے تو 6 ملین سے زیادہ مسلمان وہاں جا کر کیسے آرام کے ساتھ رہ رہے ہیں۔
حتیٰ کہ اخبار کے ایڈیٹر یا اسٹیج کے مقرر کے خود اپنے رشتے دار بھی۔ اسی طرح یہ کہ اگر امریکہ اسلام دشمن ہے تو وہاں ہزاروں کی تعداد میں اسلامی ادارے کیوں قائم ہیں اور آزادی کے ساتھ چل رہے ہیں؟ کیوں ایسا ہے کہ امریکہ میں ایسے شاندار اجتماعات ہوتے ہیں جو مسلم ملکوں میں بھی نہیں ہوتے؟ اسی طرح یہ کہ اگر امریکہ اپنی اسلام دشمنی کی بنا پر فلسطین میں یہودیوں کی مدد کرتا ہے تو وہی امریکہ اسلامی ملک پاکستان کی مسلسل طور پر کیوں مدد کر رہا ہے؟
وغیرہ۔ جب آپ مسلم اخباروں اور مسلم رہنماؤں کی باتوں کا اس طرح تجزیہ کریں گے تو آپ یقینی طور پر جان لیں گے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ میڈیا کی فراہم کردہ 1% خبروں پر انحصار نہ کیجیے، بلکہ اس کے ساتھ بقیہ 99% خبروں کو بھی شامل کر کے دیکھیے۔ اور پھر آپ کبھی رائے قائم کرنے کی غلطی میں مبتلا نہیں ہوں گے۔
کتاب: مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 143۔