Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Ulti soch.

Urdu · 5 min

الٹی سوچ۔ کوئی فرد یا گروہ تشدد کیوں کرتا ہے؟ اپنے کسی حق کے حصول کے لیے، مگر نتیجے کے اعتبار سے یہ سوچ بالکل الٹی سوچ ہے۔ کیونکہ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ تشدد کے ذریعے ہم کھوتے ہیں، اور امن کے ذریعے ہم حاصل کرتے ہیں۔

Through violence we lose; through peace we gain. ہٹلر اور اسٹالن جیسے بہت سے ڈکٹیٹروں نے بہت بڑے پیمانے پر تشدد کیا، اپنے خیال کے مطابق اپنے مفروضہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے۔ مگر بلا استثنا ہر ایک کے تشدد کا انجام صرف تباہی کی صورت میں نکلا۔ یہی معاملہ خود مسلمانوں کا ہے۔

موجودہ زمانے میں مختلف علاقے کے مسلمانوں نے بظاہر خود انصاف کے لیے، یا اپنے حقوق کے حصول کے لیے تشدد کا طریقہ اختیار کیا، مگر اس کا نتیجہ ہمیشہ برعکس صورت میں نکلا۔ تشدد کے آغاز میں وہ جہاں تھے، تشدد کے آخر میں وہ اس سے بھی زیادہ پیچھے چلے گئے۔ اس کی ایک مثال فلسطین کا مسئلہ ہے: اعلان بلفور، یعنی بلفور ڈیکلریشن کے تحت 1948 میں یہودیوں کو فلسطین کا ایک تہائی حصہ دیا گیا۔ اس کے مقابلے میں عربوں کو فلسطین کا دو تہائی حصہ حاصل ہوا، جس میں پورا یوروشلم بھی شامل تھا۔

مگر عربوں نے اس تقسیم کو قبول نہیں کیا، اور اعلان کیا کہ ہم یہودیوں کو سمندر میں دھکیل دیں گے۔ عربوں کی یہ جدوجہد ابتدا ہی سے تشدد کے راستے پر چل پڑی، اور آج تک اسی راستے پر چل رہی ہے۔ مگر بے پناہ جانی اور مالی قربانی کے باوجود اس کا نتیجہ عربوں کو صرف ذلت اور محرومی کی صورت میں ملا۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں آیا ہے کہ إن الله يعطي على الرفق ما لا يعطي على العنف اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہ خدا نے اس دنیا کے لیے جو قانون مقرر کیا ہے، اس کے تحت یہاں کامیابی صرف پرامن طریقہ کار میں لکھ دی گئی ہے۔ پرتشدد طریقہ کار کے ذریعے یہاں کسی کو کامیابی ملنے والی نہیں۔ ایک اور روایت کے مطابق پیغمبر اسلام نے فرمایا: لا تتمنوا لقاء العدو واسألوا الله العافية دشمن سے متبھیڑ کی تمنا نہ کرو، اور اللہ سے عافیت مانگو۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ اگر کسی کے ساتھ عداوت کے اسباب پیدا ہوں تو اس کے مقابلے میں تمہاری جوابی منصوبہ بندی امن کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ تشدد کی بنیاد پر۔

اصل یہ ہے کہ آدمی جب بھی تشدد کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ جذبات سے مغلوب ہو کر ایسا کرتا ہے۔ وہ ضد اور انتقام کی نفسیات کے تحت تشدد کے راستے پر چل پڑتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرے کہ اس قسم کے مواقع پر اپنی منفی جذبات کو قابو میں رکھے، وہ حقیقت پسندانہ انداز میں پورے معاملے کا بے لاگ جائزہ لے کر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے، تو وہ کبھی تشدد کا طریقہ اختیار نہیں کرے گا۔ وہ ہر حال میں امن کے حدود میں رہ کر اپنی کارروائی کرے گا، خواہ امن کا طریقہ اختیار کرنے میں ابتدائی طور پر اس کو کچھ محرومی کو برداشت کرنا پڑے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پرامن طریقہ اختیار کرنے میں بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ آدمی کو کچھ نقصان برداشت کرنا پڑے گا، لیکن اگر اس کے اندر غیر متاثر سوچ ہو تو وہ اس کو بتائے گی کہ تھوڑے نقصان کو برداشت کر لو تاکہ تمہیں بڑے نقصان کو برداشت نہ کرنا پڑے۔ جو کچھ کھویا جا چکا ہے، اس کو حاصل کرنے کی کوشش میں ایسا نہ ہو کہ جو کچھ اب بھی حاصل ہے، اس کو بھی کھو دینا پڑے۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 145۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.