سیکنڈری پوزیشن: مسجد کی نمازِ باجماعت میں ہر روز ایک سبق دیا جاتا ہے۔ وہ سبق یہ ہے کہ 10,000 نمازیوں میں سے 9,999 نمازی جب مقتدی بن کر اپنے لیے ثانوی حیثیت، یعنی سیکنڈری پوزیشن، کو قبول کرتے ہیں، اس وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک شخص کی امامت میں نمازِ باجماعت ادا کی جا سکے۔ یہی فارمولا مسجد کے باہر کی زندگی کے لیے بھی مطلوب ہے۔ جس سماج یا گروہ کے اندر یہ مزاج نہ ہو، وہاں نہ اتحاد قائم ہوگا اور نہ کوئی ترقی ممکن ہو سکے گی۔
زندگی میں ثانوی حیثیت کو قبول کرنا کسی بھی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ملی یا اجتماعی زندگی کے لیے یہ مزاج انتہائی طور پر ضروری ہے، مگر یہ مزاج اپنے آپ پیدا نہیں ہوتا؛ اس کے لیے شعوری تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی قوم میں سب سے زیادہ اہمیت ایسی تحریک کی ہے جو لوگوں میں اس قسم کا مزاج پیدا کرے۔ شعور کی بیداری اصل کام کی حیثیت رکھتی ہے۔
کسی بھی تعمیری تحریک کا نقطۂ آغاز شعور کی تربیت ہے، نہ کہ پرجوش مظاہرہ یا عملی اقدام۔ کتاب "مسائلِ اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 142۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.