Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Soch ke baghair.

Urdu · 3 min

سوچ کے بغیر۔ بہار کے ایک شہر میں ہندو مسلم فساد ہوا، اس فساد میں مسلمانوں کا بہت زیادہ نقصان ہوا۔ شہر کے مسلمانوں کی معاشیات تباہ ہو کر رہ گئی۔ اس شہر کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے میری ملاقات ہوئی، ان سے میں نے پوچھا کہ آپ کے شہر میں یہ فساد کیوں ہوا؟

انہوں نے بتایا کہ ہندوؤں کا ایک جلوس نکلا، مسلم محلے میں پہنچ کر اس نے مخالفانہ نعرہ لگانا شروع کیا۔ اس پر مسلمان بھڑک اٹھے۔ کچھ مسلم نوجوانوں نے ایک سٹیپ لیا۔ اس کے بعد دنگا شروع ہو گیا۔

وہ لوگ مسلم گھروں اور مسلم دکانوں کو جلانے اور لوٹنے لگے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کہتے ہیں کہ مسلم نوجوانوں نے ایک سٹیپ لیا، یہ سٹیپ کیا تھا؟ اصرار کے بعد انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں نے جلوس کے اوپر کچھ دستی بم پھینکے۔ اس کے بعد وہ لوگ مشتعل ہو کر تخریبی کارروائیاں کرنے لگے۔

پھر میں نے پوچھا کہ وہ نعرہ کیا تھا جس پر آپ لوگوں نے سٹیپ لیا؟ انہوں نے بتایا کہ نعرہ یہ تھا: "جیے ماں کالی، مسلمان محلہ کرو خالی"۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اشتعال انگیز منصوبے کا جواب دینا تو ضروری تھا۔ میں نے کہا کہ اس کو اشتعال انگیز منصوبہ نہ کہیے، بلکہ ایک ایسا خیالی منصوبہ کہیے جو کبھی وجود میں آنے والا ہی نہیں۔

میں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ نعرہ اور فساد کے بعد کیا آپ کا محلہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا؟ انہوں نے جوش کے ساتھ کہا کہ ہرگز نہیں۔ مسلمان آج بھی پہلے کی طرح اپنے محلے میں موجود ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا نعرہ ہوا میں تحلیل ہو گیا، وہ زمین پر واقعہ نہ بن سکا۔

میں نے ان کی بات سن کر کہا کہ میرے بھائی، جو نعرہ اتنا کمزور تھا کہ خونی فساد کرانے کے بعد بھی وہ محلے کو مسلمانوں سے خالی نہ کرا سکا، ایسے کمزور نعرے پر آپ کو بھڑکنے کی کیا ضرورت؟ ایسے نعرے کا سادہ جواب قدیم مثل کے مطابق یہ تھا: "کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے"۔ یہ ہے صحیح سوچ کا فقدان۔ صحیح سوچ لوگوں کو مکمل طور پر خونی فساد سے بچا سکتی تھی، مگر غلط سوچ نے ان کو ذلت اور نقصان کی دو طرفہ تباہی میں مبتلا کر دیا۔

غلط سوچ آدمی کو بم کے اوپر بم مارنا سکھاتی ہے، اور صحیح سوچ اس کو وہ تدبیر بتاتی ہے جس کے ذریعے وہ بم کو ڈیفیوز کر کے اس کو غیر مؤثر بنا دے۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 141۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.