برائی کی جڑ اکثر لیڈر سوچ کی اس غلطی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کے زمانے میں جو لوگ سیاسی اقتدار پر قابض ہیں، وہی تمام برائیوں کی جڑ ہیں۔ اگر ان کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے تو تمام برائی ختم ہو جائے گی۔ یہ سوچ اپنے تجربے میں بار بار غلط ثابت ہوئی ہے۔ مصر کی جماعت الاخوان المسلمون نے یہ سمجھا کہ شاہ فاروق کی حکومت ملک کی تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔
اگر کسی طرح اس حکومت کا خاتمہ کر دیا جائے تو اس کے بعد ملک کا نظام ہر اعتبار سے درست ہو جائے گا۔ اس ذہن کے تحت انہوں نے مصر کے کچھ فوجی افسروں کے ساتھ مل کر شاہ فاروق کی حکومت کو ختم کر دیا اور انہیں ملک سے نکال دیا۔ مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ صرف یہ کہ حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ اسی طرح پاکستان کی جماعت اسلامی نے یہی غلطی مزید اضافے کے ساتھ دہرائی۔
مثلاً صدر محمد ایوب خان کی حکومت کے زمانے میں انہوں نے یہ فرض کر لیا کہ ملک کی تمام خرابیوں کی جڑ ایوب خان کی فوجی حکومت ہے۔ انہوں نے اس حکومت کے خلاف ہنگامہ خیز مہم شروع کی، یہاں تک کہ صدر ایوب کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ مگر ملکی حالات میں کوئی سدھار نہ ہو سکا۔ اس کے بعد دوبارہ یہی ہوا کہ انہوں نے فرض کر لیا کہ سابق پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔
چنانچہ وہ دوسرے اسلام پسندوں کو ساتھ لے کر مسٹر بھٹو کے سیاسی اقتدار کو اکھاڑنے میں مصروف ہو گئے۔ حتیٰ کہ جنرل ضیاء الحق کی مدد سے مسٹر بھٹو کو پھانسی پر چڑھانے میں کامیاب ہو گئے۔ مگر ملک کے حالات بدستور بگڑتے چلے گئے۔ برائی کی جڑ کے نظریے کا تجربہ موجودہ زمانے میں بار بار دہرایا گیا ہے، مگر ہر بار وہ مکمل طور پر ناکام ہوا ہے۔
مسلمانوں کے علاوہ دوسرے لیڈر بھی بار بار اس غلط فکری میں مبتلا ہوئے۔ مثلاً مہاتما گاندھی نے یہ سمجھا کہ برٹش راج ہندوستان کی ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ اسی طرح جے پراکاش نارائن نے یہ سمجھا کہ کانگریسی راج ملک کی ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ مگر ہنگامہ خیز جدوجہد کے بعد جب برٹش راج اور پھر کانگریسی راج ختم ہوا تو معلوم ہوا کہ ملک کے اصل حالات میں مطلوب تبدیلی نہ ہو سکی۔
پورن سوراج اور پورن کراںتی ملک کی اصل برائیوں مثلاً کرپشن میں جزئی اصلاح بھی نہ لا سکے۔ پورن سدھار کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر قسم کے بگاڑ کا تعلق سوچ سے ہے۔ اصلاح کا راز یہ ہے کہ انسانی سوچ میں تبدیلی لائی جائے۔
انسانی سوچ کو بدلے بغیر کوئی بھی اصلاح ممکن نہیں۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 140۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.