وقت کے پیچھے سوچنا۔ مارچ 2002 عیسوی میں مسئلہ فلسطین کے حل کے بارے میں عرب ملکوں کے درمیان ایک نیا نظریہ ابھرا، وہ یہ کہ اسرائیل اگر 1977 کی حد پر واپس چلا جائے تو عرب ممالک اسرائیل کو باقاعدہ طور پر قبول کر لیں گے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب نے ایک یہودی سے بات کرتے ہوئے اس کے سامنے یہ تجویز رکھی۔ یہودی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ "عزیز پڑوسی، تم نے بہت دیر کر دی" "dear neighbor, you are too late.
" عرب حضرات کی مذکورہ تجویز بہت اچھی ہے، مگر یقینی طور پر وہ قابلِ عمل نہیں۔ یہ دراصل وقت کے پیچھے سوچنا ہے، جو کہ عملی طور پر ناممکن ہے۔ ایک اردو شاعر نے درست طور پر کہا ہے کہ "گیا وقت، پھر ہاتھ آتا نہیں"۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عربوں کے لیے فلسطین کے معاملے میں جو چیز 1917 میں ممکن تھی، وہ 1948 میں ناممکن ہو چکی تھی۔
اسی طرح ان کے لیے جو چیز 1948 عیسوی میں ممکن تھی، وہ ان کے لیے 1977 میں ممکن نہ رہی تھی۔ اسی طرح ان کے لیے جو چیز 1977 میں ممکن تھی، وہ اب 2002 میں ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ یہ حقیقت خواہ کتنی ہی تلخ ہو، مگر وہ ایک تاریخی حقیقت ہے، اور تاریخ کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں، نہ عربوں کے لیے اور نہ کسی دوسرے کے لیے۔ 2002 عیسوی میں عربوں کے لیے فلسطین کے معاملے میں جو چیز ممکن ہے، وہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ غزہ اور اریحہ کی صورت میں ان کو جو چیز ملی ہے، اس کو قبول کر لیں۔
وہ اس حاصل شدہ خطے پر اپنے مستقبل کی تعمیر کریں۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اپنے پرجوش رہنماؤں کی غیر حقیقت پسندانہ رہنمائی کے نتیجے میں انہوں نے اس حاصل شدہ ٹکڑے کو بھی اپنے لیے مشتبہ بنا لیا ہے۔ عربوں کو جاننا چاہیے کہ وہ حماس اور انتفاضہ جیسی پرتشدد تحریکوں کے بل پر کوئی چیز حاصل نہیں کر سکتے۔ منفی عمل سے کبھی کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔
حماس اور انتفاضہ جیسی تحریکیں حقیقت کے اعتبار سے تحریکیں نہیں ہیں، وہ صرف جذباتی ردعمل کا مظہر ہیں۔ اور حقائق کی اس دنیا میں سوچے سمجھے عمل کے ذریعے کوئی نتیجہ نکلتا ہے، نہ کہ جذباتی ابال کے ذریعے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی کی بنیاد پر کبھی حال کا فیصلہ نہیں ہوتا، حال کا فیصلہ ہمیشہ حال کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تنسیخ تاریخی قانون ہے، اس میں کوئی استثنا کبھی ممکن نہیں، نہ ایک قوم کے لیے اور نہ کسی دوسری قوم کے لیے۔
کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 139۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.