امن کس لیے؟ امن کی تعریف اہلِ علم حضرات اس طرح کرتے ہیں کہ "امن عدمِ جنگ" یعنی absence of war کا نام ہے، مگر وہ لوگ جو مختلف مقامات پر حق اور انصاف کے اصول کے نام پر جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، وہ اس تعریف کو نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ امن برائے امن کوئی چیز نہیں؛ ان کے نزدیک امن وہ ہے جو امن مع انصاف یعنی peace with justice ہو، نہ کہ امن بغیر انصاف یعنی peace without justice۔ یہ سوچ ایک غیر حقیقی سوچ ہے۔
انصاف امن کا نتیجہ نہیں ہے؛ انصاف خود طالبِ انصاف کے عمل کا نتیجہ ہے۔ امن کے ذریعے وہ معتدل حالات پیدا ہوتے ہیں جو مواقع کے استعمال کو ممکن بناتے ہیں۔ جنگ کی حالت مواقع یعنی opportunities کے استعمال میں رکاوٹ ہے۔ امن کی حالت قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مواقع کی راہ سے یہ رکاوٹیں ختم ہو جائیں تاکہ ان کو استعمال کر کے اپنا مطلوب حق یا اپنا مطلوب انصاف حاصل کیا جا سکے۔
اگر آدمی کی سوچ یہ ہو کہ وہ فریقِ ثانی سے امن کا معاملہ کرنے پر صرف اس وقت راضی ہوگا جبکہ امن کے ساتھ ساتھ اس کو انصاف مل رہا ہو، تو آدمی کو نہ کبھی امن ملے گا اور نہ کبھی انصاف۔ ایسا امن اس دنیا میں کسی کے لیے ممکن ہی نہیں۔ یہ سوچ ایک غیر فطری چیز ہے جو اس دنیا میں کبھی نتیجہ خیز ہونے والی نہیں۔ صحیح سوچ یہ ہے کہ امن کو مواقعِ عمل سے جوڑا جائے، نہ کہ حصولِ انصاف سے۔
امن کو فریقِ ثانی سے معاہدہ کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر انصاف یا حق کسی کو صرف اپنے عمل سے ملتا ہے، نہ کہ کسی اور کے دینے سے۔ کتاب "مسائلِ اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 138۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.