Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Zahni taraqqi me rukavat.

Urdu · 3 min

ذہنی ترقی میں رکاوٹ۔ دہلی کے ایک اردو ماہ نامہ میں دعوتِ اسلام کے موضوع پر ایک تبصرہ چھپا ہے۔ صاحبِ تحریر کا ایک پیراگراف یہ ہے: "تحریکِ اسلامی کے ایک ممتاز، بلند پایا رہنما نے بڑی اچھی بات کہی کہ موجودہ جدید جمہوری آزاد ہندوستان میں دارالکفر اور دارالاسلام کی فقہی اصطلاحوں میں نہ پڑھیے، یہ پورا ملک دارالدعویٰ ہے اور یہ امتِ مسلمہ امتِ دعوت ہے۔ " زندگی 9 مارچ 2002، صفحہ 72۔

اس عبارت میں مذکورہ رہنما کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ رہنما سے مراد کون صاحب ہیں؟ امرِ واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان کے بارے میں دارالدعویٰ کا لفظ پہلی بار راقم الحروف نے استعمال کیا، اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ مجھ سے پہلے کسی نے ہندوستان کو دارالدعویٰ کہا ہو۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس سے پہلے مسلم رہنماؤں میں سے کسی نے ہندوستان کو دارالکفر کہا، کسی نے دارالحرب کہا، کسی نے دارالطاغوت کہا، کسی نے دارالامن کہا۔

مگر کوئی بھی شخص ہندوستان کو دارالدعویٰ نہ کہہ سکا تھا۔ ہندوستان کے لیے دارالدعویٰ کا لفظ پہلی بار میں نے استعمال کیا، اور اس کے حق میں شرعی دلائل فراہم کیے۔ اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ مضمون نگار کے نزدیک وہ کون شخص ہے جس نے یہ بتایا کہ ہندوستان دارالدعویٰ ہے؟ اگر وہ جانتے ہیں کہ یہ کام راقم الحروف نے کیا ہے، پھر بھی انہیں میرا نام لینا پسند نہیں، تو یہ ایک قسم کی ذہنی بزدلی ہے۔

اور اگر وہ اپنے حلقے کے کسی بزرگ کو فرضی طور پر یہ کریڈٹ دینا چاہتے ہیں، تو یہ بدترین قسم کی گروہ پسندی ہے۔ دونوں حالتوں میں یہ حقائق پر مصلحت کو ترجیح دینا ہے، اس کے سوا اس کی کوئی اور توجیہ ممکن نہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر لوگ اس قسم کی کمزوری میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کمزوری کا سب سے بڑا نقصان کسی دوسرے کو نہیں پہنچتا، بلکہ خود اس شخص کو پہنچتا ہے جو ایسی کمزوری میں مبتلا ہو۔

اس کو اپنی اس کمزوری کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ اس کا ذہنی ارتقاء رک جائے۔ اس قسم کی کمزوری آدمی کے ذہن کو بند ذہن بنا دیتی ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بند ذہن کسی آدمی کے ذہنی اور فکری ارتقاء میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ذہنی ارتقاء کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک ارتقایافتہ ذہن ہی کو وہ اعلیٰ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو معرفت کہا گیا ہے۔ اور معرفت کا نہایت گہرا تعلق دینی فہم سے ہے۔ معرفت کے بغیر علم صرف معلومات ہے، اور معرفت کے ساتھ علم بصیرت کا خزانہ۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 137۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.