← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Bey bunyaad soch.
Urdu · 4 min
بے بنیاد سوچ؟ انڈیا کے ہندو اور مسلمان دونوں ایک ہی قسم کی غلط سوچ میں مبتلا ہیں، دونوں ہی یکساں طور پر ایک فرضی یقین میں جی رہے ہیں۔ دونوں کے "کیس" کو مختصر الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے: مسلم، "اسلام سچا ہے اس لیے میں بھی سچا ہوں"۔ ہندو، "ہر مذہب سچا ہے اس لیے میں بھی سچا ہوں"۔
یہ دونوں ہی قسم کی سوچ غلط مفروضات پر قائم ہے؛ غیر جانبدارانہ تجزیہ ان کی غلطی کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس قسم کا یقین محض خوش عقیدگی کی بنیاد پر قائم ہے، وہ کسی حقیقی دلیل کی بنیاد پر قائم نہیں۔ اب مسلمان کے معاملے کو لیجیے: یہ ایک واقعہ ہے کہ اسلام سچا اور برحق مذہب ہے۔ اسلام کا برحق مذہب ہونا اسی دنیا میں آج بھی ایک معلوم اور مسلم حقیقت ہے۔
قرآن کی متعدد آیتیں اس کا ثبوت ہیں، مثلاً "إن الدين عند الله الإسلام" آل عمران 19۔ اسی طرح فرمایا: "ومن يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه وهو في الآخرة من الخاسرين" آل عمران 85 ۔ اس طرح کی آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا سچا اور برحق ہونا آج بھی ایک معلوم اور مسلم حقیقت ہے۔ مگر جہاں تک مسلمانوں کا معاملہ ہے، ان کی حیثیت اس اعتبار سے بالکل مختلف ہے۔
کوئی شخص جو اسلام کا دعویٰ کر رہا ہے، یا کوئی گروہ جو اپنے آپ کو اسلامی گروہ بتاتا ہے، اس کا اسلام صرف آخرت میں معتبر اور متحقق ہوگا، موت سے پہلے کی دنیا میں نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی کو اندیشہ اور امید کے درمیان جینا ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ "الإيمان بين الرجاء والخوف" ۔ اب ہندو کے معاملے کو لیجیے: یہ نظریہ کہ ہر مذہب سچا ہے، ایک غیر علمی اور غیر منطقی نظریہ ہے۔ مذاہب کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کے درمیان بنیادی اختلافات پائے جاتے ہیں، مثلاً کسی کے نزدیک خدا ایک ہے اور کسی کے نزدیک وہ متعدد ہے۔
کوئی پرسنل گاڈ میں یقین رکھتا ہے اور کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خدا ایک سرائیت کی ہوئی اسپرٹ، یعنی پرویڈنگ اسپرٹ ہے، جس کا کوئی علیحدہ تشخص نہیں۔ کوئی پیغمبری کو مانتا ہے اور کوئی اوتار واد کو، اور کوئی ابنیتِ خدا کو، وغیرہ وغیرہ۔ مذاہب کے درمیان اس قسم کے بنیادی اختلافات موجود ہیں۔ ایسی حالت میں ہر مذہب کو یکساں بتانا ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے کوئی علمی اور منطقی اساس موجود نہیں۔
مزید یہ کہ "ہر مذہب سچا ہے" کا نظریہ خود اپنی تردید آپ ہے؛ مذہب سچائی کا نمائندہ ہے، اور سچائی کبھی تعدد کو قبول نہیں کرتی۔ سچائی وہی ہے جو ایک ہو، جو سچائی کئی ہو، وہ سچائی بھی نہیں۔ مذہب کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو یقین اور اعتماد عطا کرے، وہ اس کے لیے جینے کا غیر متزلزل سہارا ہو، جو بحران کے لمحات میں اس کے لیے بھروسہ بن سکے۔ یہ مقصد صرف ایک سچائی کے تصور سے پورا ہو سکتا ہے، کیونکہ آدمی صرف کسی ایک سچائی پر اپنے ذہن کو مرتکز کر سکتا ہے، نہ کہ کئی سچائیوں پر۔
بہت سی باتیں ایسی ہیں جو کہنے میں خوبصورت معلوم ہوتی ہیں، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ بے معنی ہوتی ہیں۔ وہ گرامر کے اعتبار سے درست، مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 135۔