← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Meayaar ka farq.
Urdu · 4 min
معیار کا فرق۔ ایک صاحب نے میری تحریروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کی کتابیں پڑھی ہیں، مگر آپ کی تحریروں میں تضاد پایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی کوئی مثال دیجیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک طرف سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ لوگ بلاشبہ مخلص تھے، مگر اسی کے ساتھ آپ یہ لکھتے ہیں کہ 1831 عیسوی میں انہوں نے پنجاب میں جو جہاد کیا وہ ایک غیر دانشمندانہ اقدام تھا۔
ایک طرف آپ شہیدین کی تعریف کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ ان کی تنقید کرتے ہیں، کیا یہ تضاد نہیں؟ میں نے کہا کہ یہ تضاد کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ فکری معیار کے فرق کی بات ہے۔ آپ لوگوں کا فکری معیار یہ ہے کہ آپ جن افراد کو اکابر کا درجہ دے دیں، ان کے بارے میں آپ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ غلطی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے جو کچھ کہا یا کیا، وہ سب درست تھا۔
یہی وجہ ہے کہ آپ کے مزعومہ اکابر کے بارے میں اگر کوئی جزئی تنقید بھی کی جائے تو آپ لوگ بھڑک اٹھتے ہیں۔ اپنے معیار کے مطابق آپ اپنے اکابر کو صرف قابلِ تعریف سمجھتے ہیں، قابلِ تنقید نہیں۔ اس کے مقابلے میں دوسرا معیار وہ ہے جس کو علمی معیار کہا جاتا ہے۔ علمی معیار پراسرار شخصی تقدس پر قائم نہیں ہوتا، وہ معلوم اور ثابت شدہ حقائق پر مبنی ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ علمی معیار میں تحلیل اور تجزیے کا طریقہ رائج ہے۔ علمی معیار کے مطابق داخلی نیت ایک الگ چیز ہے اور خارجی عمل اس سے مختلف دوسری چیز۔ یہ علمی معیار شریعت کے عین مطابق ہے۔ اسی بنا پر حدیث میں آیا ہے کہ اگر آدمی کی نیت درست ہو تو اجتہادی خطا پر بھی اس کو ایک درجے کا ثواب ملے گا۔
صحیح البخاری۔ میرا طریقہ یہی علمی معیار والا طریقہ ہے۔ میں شخصی تقدس کے نظریے کو درست نہیں سمجھتا۔ میں شخصیتوں کا تجزیہ خالص حقائق کی روشنی میں کرتا ہوں۔
اس تجزیاتی طریقِ مطالعے نے مجھے بتایا کہ سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید بلاشبہ مخلص لوگ تھے، مگر 1831 عیسوی میں انہوں نے پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف جو مسلح جہاد کیا، اس میں بیک وقت دو کمیاں شامل تھیں: ناقص تیاری اور حالات سے بے خبری۔ سید اسماعیل شہید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب جہاد کا فیصلہ ہوا تو انہوں نے جہاد کی تیاری شروع کر دی۔ اس وقت وہ دہلی میں تھے۔ گرمی کے زمانے میں وہ دہلی کی جامعہ مسجد کے پتھر کے فرش پر ننگے پاؤں چلتے تھے۔
اس کو وہ جہاد کی تیاری سمجھتے تھے۔ ان کا یہ عمل ان کے قلبی اخلاص کا ثبوت تو ضرور ہو سکتا ہے، مگر اس کا کوئی تعلق مہاراجہ رنجیت سنگھ کی اعلیٰ تربیت یافتہ فوج کے خلاف جنگ کی تیاری سے نہیں۔ کیونکہ اس جنگ میں جو چیز فیصلہ کن بننے والی تھی وہ فوجی طاقت تھی، نہ کہ ننگے پاؤں گرم پتھر پر چلنے کی مشق۔ انہی کمیوں کا یہ نتیجہ تھا کہ ان کا یہ مسلح جہاد صرف یکطرفہ تباہی پر ختم ہوا۔
کسی شخص کی نیت خواہ کتنا ہی زیادہ درست ہو، لیکن اگر وہ پتھر کو توڑنے کے لیے اپنا سر اس سے ٹکرانے لگے تو یقینی طور پر حسن نیت کے باوجود اس کا سر ٹوٹ جائے گا۔ کیونکہ پتھر کو ہتھوڑے سے توڑا جا سکتا ہے، مگر سر سے نہیں۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 134۔